Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 1

  1. اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴿1﴾

    1. اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُقریب آگئی قیامت
    2. وَانْشَقَّ الْقَمَرُاور شق ہوگیا چاند
Translation · Tadabbur-e-Quran
(عذاب کی گھڑی سر پر آگئی اور چاند شق ہو گیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔۔۔۔۔ (قتربت الساعۃ وانشق القمر (1) (رسول قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے)۔ الساعۃ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے جس سے قریش کو، یوں تو اس گروپ کی تمام ہی سورتوں میں آگاہ کیا گیا ہے لیکن سابق سورة میں خاص اہتمام کے ساتھ ان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ (ازفت الازفۃ) (57) یہ قریب آنے والی قریب آ لگی ہے۔ اس کو بہت دور نہ سمجھو، جاگو اور اٹھو اور اس سے بچنے کی واحد تدبیر پہ، جو تمہیں سمجھائی جا رہی ہے، عمل کر کے اپنے کو اس کی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اس عذاب سے جو اس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے اگر وہ رسول کے انداز کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ ان دونوں عذابوں میں فرق صرف آغازو تکمیل و تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے وہ در حقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے اس وجہ سے لفظ اساعۃ بسا اوقات ان دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آگیا اس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی۔ گویا (اقتربت الساعۃ) کا اسلوب بیان مبالغہ کا اسلوب نہیں بلکہ یکسر بیان حقیقت ہے۔ (ظہور عذاب کی ایک نشانی)۔ (وانشق القمر)۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے جس سے رسول کے انداز اور اس کے دعوائے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اس سنت الٰہی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے ہم ایک آیت بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے۔ (سر یھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم) (حم السجدۃ : 53) (ہم عنقریب ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اس کائنات میں بھی اور خود ان کے اندر بھی) ان نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انداز کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے اس کی تائید کے آثار و شواہد اس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہوجائے۔ اسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ ﷺ کے انداز کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ قرآن ان کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضاء میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہوجائے گا۔ یہ باتیں ان کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہے، ان کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے ان کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو بلکہ ان کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی بلکہ ان کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اس لیے بھی ان کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا ان کا جواب مل جائے، کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہوجائے۔ پہاڑوں سے متعلق ان کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیر متزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر ان کو بتایا کہ اس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔ (ایک سوال کا جواب)۔ رہا یہ سوال کہ اس طرح کا کوئی واقعہ نبی ﷺ کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ صورت واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اس نے زمانے میں بھی اس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے لیکن سیاق کلام اس سے اباء کرتا ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بےجوڑ ہوجاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجئے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے بعد یہ بات کہنے کا محل تھا ؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی وہ حرف حرف سچی نکلی، چناچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ (یقول الکفرون ھذا یوم عسر) (8) (اس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آگیا)۔ یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین دوسرے کردں میں اس طرح کی شکست و ریخت اور ان کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلے زمانے میں ان کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور صد گاہیں وجود میں آگئی ہیں اس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کردیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے۔ اس وجہ سے اس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے اس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہوجائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اس طرح کے کتنے انکشافات ہیں جو ہمارے کرہ زمین سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ ان کو باور کررہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے ؟ سائنس نے اگر ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اس کی نار سائی کی دلیل ہے۔ انتظامیہ اور صبر کیجئے، شاید مستقبل میں وہ بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہوجائے۔