Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 13

  1. وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ﴿13﴾

    1. وَحَمَلْنٰهُاور اٹھایا ہم نے اس کو۔ سوار کیا ہم نے اس کو
    2. عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍاوپر تختوں والی کے
    3. وَّدُسُرٍاور میخوں والی کے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس کو ایک تختوں اور میخوں والی پر اٹھا لیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(وحملنہ علی ذات الواح و رسر) (13) (اصل محافظ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے)۔ (ذات الواح ودسر) سے مراد ظاہر ہے کہ وہ کشتی ہے جو حضرت نوح ؑ نے، اللہ تعالیٰ کی خاص ہدایت کے تحت بنائی۔ اس کا ذکر اس کے اجزائے تعمیر کی تفصیل کے ساتھ یہاں، میرے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، عنایت، رحمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کی قوم کا بیڑا غرق کردیا۔ جس سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا چاہا ان کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بچا لیا۔ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے، وہ شامل حال ہو تو لکڑی کے چند تختے طوفان نوح سے بچا لیتے ہیں اور وہ شامل حال نہ ہو تو بڑے سے بڑے جنگی جہاز چشم زدن میں بلبل کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط بند تنکوں کی طرح سیلاب کے زور میں بہہ جاتے ہیں۔