تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 33
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ﴿33﴾
- كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢجھٹلایا قوم لوط نے
- بِالنُّذُرِڈراووں کو۔ ڈرانے والوں کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
قوم لوط نے بھی ”تنبیہات کو جھٹلا یا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(کذبت قوم لوط بالنذرہ انا ارسلنا علیھم حاصبا الا ال لوط نجینھم بسحر) (33۔ 34)
(واقعہ قوم لوط)۔۔ فرمایا کہ اسی طرح لوط کی قوم نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا تو اتمام حجت کے بعد ہم نے ان پر سنگ ریزے برسانے والی آندھی مسلط کردی۔ حاصب کی نوعیت سورة ٔ ذاریات کی تفسیر میں واضح کی جا چکی ہے۔ (الا ال لوط) یعنی اس عذاب سے صرف ال لوط محفوظ ہے۔ لفظ ال پر اس کے محل میں بحث گزر چکی ہے کہ اس کے مفہوم میں صرف آدمی کی صلبی ذریت ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس کی معنوی ذریت یعنی اس کے اتباع بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ (نجینھم بسحر) فرمایا کہ لوط ؑ اور ان کے اتباع کو ہم نے عذاب کے ظہور سے پہلے ہی سحر کے وقت بستی سے نکال لیا۔ عذاب کا وقت آگے (ولقد صبحھم بکرۃ) کے الفاظ سے واضح فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب صبح کو آیا اور یہ لوگ طلوع فجر سے پہلے پہلے عذاب کے علاقہ سے نکل چکے تھے، ظاہر ہے کہ یہ حفاظت ان کو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے حاصل ہوئی۔