Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 55. Ar-Rahmaan · Ayah 3

  1. خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ﴿3﴾

    1. خَلَقَ الْاِنْسَانَاس نے پیدا کیا انسان کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے انسان کو پیدا کیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(خلق الانسان علمہ البیان) (3۔ 4) (انسان کی فطرت مقتضی تھی کہ اس کی ہدایت کے لیے قرآن نازل ہوا)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ انس کی خلقت اور اس کی صفات کا تقاضا بھی یہی ہوا کہ اس کی رہنمائی کے لیے صحیفہ ہدایت اترے نہ کہ تازیانہ عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو نطق و گویائی کی تعلیم دی۔ یہ گویائی اس بات کی شہادت ہے کہ خالق نے اس کو ایک عاقل و مدرک ہستی بنایا ہے۔ دو بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی خیر و شر میں امتیاز کرسکتا ہے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچا اور ان کو سمجھا سکتا ہے۔ جب ان گوناگوں صلاحیتوں سے وہ آراستہ ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قدرت نے یہ چاہا ہے کہ اسکو کلام کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے نہ کہ جانوروں کی طرح ڈنڈے کے ذریعے سے۔ یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ انسان میں نطق کی صلاحیت اس کے اندر دوسری گونا گوں صلاحیتوں کی شاہد ہے۔ یہ نطق متلزم ہے کہ انسان عاقل و مدرک ہے، و کلیات سے جزئیات اور جزئیات سے کلیات بنا سکتا ہے، وہ استدلال، استباط اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ارسطو نے اسی وجہ سے انسان کی اسی صفت کو اس کے لیے حیوانات سے ممتاز کرنے والی صفت قرار دیا ہے۔ یہ صفت اس کے اندر نہ پائی جائے تو پھر وہ انسان نہیں بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ کسی حقیقت کو دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی جگہ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے کے منتظر ہیں وہ بھی جانوروں ہی کے گلے میں شامل ہیں۔ اگرچہ وہ رہتے شانداربنگلوں میں ہوں۔