Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 22

  1. مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ﴿22﴾

    1. مَآ اَصَابَنہیں پہنچتی
    2. مِنْسے
    3. مُّصِيْبَةٍکوئی مصیبت
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْاور نہ تمہارے نفسوں میں
    6. اِلَّامگر
    7. فِيْ كِتٰبٍایک کتاب میں ہے
    8. مِّنْ قَبْلِاس سے پہلے
    9. اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭکہ ہم پیدا کریں اس کو
    10. اِنَّ ذٰلِكَبیشک یہ بات
    11. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    12. يَسِيْرٌبہت آسان ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تمہیں کوئی مصیبت بھی نہیں پہنچتی ہے، نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس کے اندر مگر یہ کہ وہ لکھی ہوئی ہے ایک کتاب میں اس سے پہلے سے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں اور یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر) (22)۔ (تقدیر کا نوشتہ اٹل ہے) یعنی یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ جو مالی یا جانی مصیبت بھی تمہیں پیش آنی ہے وہ پیش آ کے رہے گی، تم اس سے بچنے کے کتنے ہی جتن کرو لیکن اس سے بھاگ نہیں سکتے، ہر دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ایک کتاب میں لکھ رکھا ہے اور یہ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ وہ نوشتہ تقدی کو بدل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا علم حاضر و مستقبل سب پر محیط ہے اس وجہ سے اس کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ تم اپنے محدود علم پر قیاس کر کے اس کو بعید از امکان خیال کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ اس کے لیے یہ معمولی بات ہے کہ وہ جس کو وجود بخشے اس کے وجود سے پہلے ہی اس کی تقدیر بھی لکھ دے۔ یہاں دعوت انفاق کی ذیل میں اس نکتہ کی وضاحت اس وجہ سے ضروری ہوئی کہ اللہ تعالٰ کی راہ میں انفاق مال و جان سے جی وہی لوگ چراتے ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کو جو مال حاصل ہوتا ہے وہ ان کی اپنی تدبیر سے حاصل ہوتا ہے اور جو زندگی عطا ہوئی ہے اس کے محافظ وہ خود ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا کہ مال اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اس وجہ سے یہ انتہائی نادانی ہے کہ اس کو خدا سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ جو چیز خدا ہی کی بخشش سے ملی ہے اس کو کوئی خدا سے کس طرح بچا سکتا ہے ؟ اگر وہ اللہ کے حق میں بخالت کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کوئی آفت بھیج کر اس کا مال چھین لے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور اپنے رب سے یہ امید رکھے کہ جس طرح اس نے آج اپنی مدد سے نوازا ہے اسی طرح آئندہ بھی ہر مشکل میں وہ مدد فرمائے گا۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں منافقوں اور بخیلوں کا یہ کردار بیان ہوا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے اس ندیشہ سے جی چراتے ہیں کہ کل کہ اگر کوئی افتاد پیش آئی تو کیا بنے گا۔ گویا وہ اپنی نجالت کو آئندہ پیش آنے والی مشکلوں اور گروشوں کا علاج سمجھتے ہیں، حالانکہ جو کچھ پیش آنا ہے وہ اٹل ہے۔ اس کا علاج خدا سے بخالت نہیں بلکہ اس کی راہ میں انفاق اور اسی پر توکل ہے۔ (فی الارض) سے یہاں اشارہ ان مالی قسم کی آفتوں کی طرف ہے جو زمین کی پیداوار کو لا حق ہوتی ہے اور (فی انفسکم) سے وہ تکلیفیں اور مصیبتیں مراد ہیں جو جسم اور جان کو لا حق ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں انسان کو جو آزمائشیں بھی پیش آتی ہیں انہی دونوں راہوں سے پیش آتی ہیں، فرمایا کہ ان دونوں ہی راہوں سے جو کچھ بھی پیش آنے والا ہے وہ پہلے سے اللہ تعالیٰ کے باں نوشتہ ہے۔ اس وجہ سے انسان کے لیے نہ یہ جائز ہے کہ وہ اپنے رب سے اپنا مال چرائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہ اس سے اپنی جان چرانے کی کوشش کرے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی وہ خدا سے بچا سکنے پر قادر نہیں ہے۔ انہی منافقین کو خطاب کر کے قرآن میں دوسری جگہ فرمایا ہے کہ آج تم خدا کی راہ سے جی چراتے اور موت سے ڈرتے ہو لیکن موت کا جو وقت مقرر ہے وہ اس وقت آ کے رہے گی اور تم کتنے ہی محکم قلعوں کے اندر چھپ کے بیٹھو لیکن وہ تم کو ڈھونڈلے گی۔ فی کتب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی تقدیر رقم فرما رکھی ہے۔ اس کی لوح محفوظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے اور اس سے مراد در حقیقت علم الٰہی ہے۔ (ان ذلک علی اللہ بسیر) یعنی تمہارا علم بہت محدود ہے اس وجہ سے تمہارے لیے یہ تصور کرنا بڑا مشکل ہے کہ ایک ایک فرد کی زندگی میں جو کچھ پیش آتا ہے وہ لکھا ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ اس پوری کائنات کا خالق اور اس کا علم محیط کل ہے وہ ہر ایک کے متعلق جانتا ہے کہ وہ کن مراحل سے ہوتا ہوا کس منزل تک پہنچے گا۔