Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 21

  1. كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴿21﴾

    1. كَتَبَ اللّٰهُلکھ دیا (فیصلہ کردیا) اللہ نے
    2. لَاَغْلِبَنَّمیں ضرور غالب آؤں گا
    3. اَنَامیں
    4. وَرُسُلِيْ ۭاور میرے رسول
    5. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    6. قَوِيٌّقوی
    7. عَزِيْزٌغالب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بیشک میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بیشک اللہ قوی و عزیز ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز) (21)۔ (رسول کے باب میں سنت الٰہی)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا اعلان فرمایا ہے جو ازل ہے اس نے لکھ رکھی ہے کہ جو کشمکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہوگی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہوگا، شیطان کی پارٹی ذلیل و خوار ہوگی۔ اس سنت اللہ کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ رسول جتنے بھی دنیا میں آئے وہ جس قوم کے اندر آئے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہوگیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی رسول کی تکذیب کردی تو اس کے اندر سے رسول اور اس پر ایمان لانے والے افراد کو الگ کر کے باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی عذاب کے ذریعہ سے فنا کردیا اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد متعدبہ ہوئی تو اتمام حجت کے بعد اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ وہ جہاد کے لیے تلوار اٹھائیں اور ان اعدائے حق سے مقابلہ کر کے ان کا زور توڑ دیں کہ زمین ان کے فتنہ سے پاک ہوجائے۔ قرآن نے رسولوں کی جو تاریخ پیش کی ہے ان میں سے اکثر کو پہلی صورت پیش آئی یعنی رسول اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد قوم پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن عذاب آگیا۔ صرف آنحضرت ﷺ کے معاملے میں دوسری صورت پیش آئی کہ ہجرت کے بعد آپ کو جہاد کا حکم ہوا اور آپ کے اعداء نے آپ کے صحابہ ؓ کی تلوار سے شکست کھائی یہاں تک کہ ان کا بالکل قلع قمع ہوگیا۔ (ان اللہ قری عزیز) یہ اس دعوے کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ کیوں اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ قوی و عزیز ہے۔ وہ (ا ؎۔ یہاں نبی اور رسول کے درمیان وہ فرق ملحوظ رہے جو ہم نے اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کیا ہے)۔ جب اپنے بندوں کے پاس اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ رسول اللہ کا سفیر ہوتا ہے جو لوگوں کے پاس ان کے حقیقی بادشاہ کے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اگر لوگ اپنے مالک حقیقی کے احکام کی بجا آوری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ زمین میں ان کو اقتدار بخشتا اور ان کو اپنے افضال و غیایات سے نوازتا ہے اور اگر وہ خود اللہ سے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ باغی قرار پاتے ہیں اور اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ ان باغیوں کے وجود سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔