تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 111
وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ﴿111﴾
- وَلَوْاور اگر
- اَنَّنَاہم
- نَزَّلْنَآاتارتے
- اِلَيْهِمُان کی طرف
- الْمَلٰٓئِكَةَفرشتے
- وَكَلَّمَهُمُاور ان سے باتیں کرتے
- الْمَوْتٰىمردے
- وَحَشَرْنَااور ہم جمع کردیتے
- عَلَيْهِمْان پر
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- قُبُلًاسامنے
- مَّانہ
- كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓاوہ ایمان لاتے
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ کہ
- يَّشَآءَ اللّٰهُچاہے اللہ
- وَلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَهُمْان میں اکثر
- يَجْهَلُوْنَجاہل (نادان) ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور ساری چیزیں ان کے آگے گروہ در گروہ اکٹھی کردی جاتیں جب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے الا آنکہ اللہ چاہے لیکن ان کی اکثریت مبتلائے جہل ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا۔ قُبُل مصدر بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی کسی شے کو سامنے سے آتے دیکھنے کے ہیں اور قبیل کی جمع بھی ہوسکتا ہے جس کے گراہ اور جماع کے ہیں۔ قرآن میں دانوں معنوں کے لیے نظیر موجود ہے۔ پہلے معنی کے لیے نظیر سورة کہف میں ہے وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الأوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلا : ہدایت آچکنے کے بعد لوگوں کو ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت چاہنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ ان کے بارے میں بھی خدا کی وہی سنت ظاہر ہوجائے جو اگلوں کے بارے میں ظاہر ہوچکی ہے یا یہ کہ ان پر عذاب سامنے سے دراتا ہوا آجائے (الکہف :55)۔ دوسرے معنی کے لیے نظیر سورة بنی اسرائیل میں ہے۔“ او تاتی باللہ والملئکۃ قبیلا : یا تم اؤ اللہ کو اور فرشتوں کو کو گروہ در گروہ ”(بنی اسرائیل :92)۔ زیر بحث آیت میں اگرچہ بنتے دونوں معنی ہیں لیکن میں نے حشرنا اور کل شیء کی رعایت سے ترجمے میں ترجیح دوسرے معنی کو دی ہے۔
ایمان کے لیے اصلی حجاب : یہ اوپر والے مضمون ہی کی تاکید ہے، فرمایا کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں، یا قبروں سے مردے نکل کر ان سے باتیں کرنے لگتے، جیسا کہ یہ مطالبہ کرتے ہیں، یا پردہ غیب کی ساری ہی چیزیں ان کے سامنے گروہ در گروہ لا کھڑی کرتے جب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اس لیے کہ وہ طغیان جس نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے جب بھی باقی رہتا۔ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ ، ان کے ایمان لانے کی شکل صرف یہ ہے کہ اللہ یہ چاہے کہ ان کو ایمان و ہدایت بخشے اور اللہ کوئی چاہنا بھی اس کی ٹھہرائی ہوئی اور اس کی پسند کی ہوئی حکمت کے خلاف نہیں ہوتا، وہ ایمان واسلام کسی کے دل میں زبردستی نہیں ٹھونستا۔ یہ نعمت وہ ان کو بخشتا ہے جو اس کے قدر دان ہوتے اور اس کے لیے اپنی وہ صلاحیتیں استعمال کرتے ہیں جو خدا نے ان کے اپنے اندر ودیعت فرمائی ہیں۔ جب وہ ان کو استعمال کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے ان کو مزید توفیق ارزانی ہوتی ہے۔ رہے یہ جو معجزے دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو یہ اپنی خواہات و جذبات کے غلبہ سے اندھے ہو رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ راہ کیسے کھل سکتی ہے۔