Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 123

  1. وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿123﴾

    1. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    2. جَعَلْنَاہم نے بنائے
    3. فِيْمیں
    4. كُلِّہر
    5. قَرْيَةٍبستی
    6. اَكٰبِرَبڑے
    7. مُجْرِمِيْهَااس کے مجرم
    8. لِيَمْكُرُوْاتاکہ وہ حیلے کریں
    9. فِيْهَااس میں
    10. وَمَااور نہیں
    11. يَمْكُرُوْنَوہ حیلے کرتے
    12. اِلَّامگر
    13. بِاَنْفُسِهِمْاپنی جانوں پر
    14. وَمَااور نہیں
    15. يَشْعُرُوْنَوہ شعور رکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے سرغنوں کو ڈھیل دی کہ اس میں اپنی چالیں چل لیں اور چال وہ اپنے ہی ساتھ چلتے تھے لیکن ان کو اس کا احساس نہیں تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا لِيَمْكُرُوْا فِيْهَا، جعلنا یہاں امہلنا کے مفہوم میں ہے اور کذالک کا اشارہ اس صورت حال کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر آیت 121 میں فرمایا ہے۔ یہ اسی سنت اللہ کا بیان کسی قدر مختلف انداز میں ہوا ہے جو اوپر آیت 112 میں بیان ہوچکی ہے مطلب یہ ہے کہ یہ شیاطین جن و انس اس دعوت کی مخالفت میں جو ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں یہ کوئی نادر واقعہ نہیں ہے۔ کسی بستی میں جب دعوت حق بلند ہوتی ہے تو وہاں جو باطل کے علمبردار ہوتے ہیں اور جن کا اس باطل سے مفاد وابستہ ہوتا ہے اسی طرح اپنی تمام چالوں کے ساتھ اس کو دبانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ان کو بھی ایک خاص وقت تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ جو کمائی وہ کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔ وَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ، یہاں مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ یعنی وہ تو چالیں حق کے خلاف چلتے تھے لیکن یہ چالیں انہیں کے خلاف پڑیں۔ حق کی مخالفت کرنے والے حق کو نہیں بلکہ خود اپنے کو تباہ کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کے سامنے ان کا انجام نہیں ہوتا اسی وجہ سے ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ یہی حال قریش کے اکابر مجرمین کا ہے۔ یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور بالآخر انہی کے انجام کو پہنچیں گے لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہورہا ہے۔