تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 134
اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ﴿134﴾
- اِنَّبیشک
- مَاجس
- تُوْعَدُوْنَتم سے وعدہ کیا جاتا ہے
- لَاٰتٍضرور آنیوالی ہے
- وَّمَآاور نہیں
- اَنْتُمْتم
- بِمُعْجِزِيْنَعاجز کرنیوالے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ رہے گی اور تم ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، ‘ توعدون ’ ٰمیں وہ عذاب بھی داخل ہے جس کی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو دھمکی سنا دی گئی تھی اور وہ یوم الحساب بھی جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں باتیں شدنی ہیں اور جب ان کا ظہور ہوگا تو تم خدا کے قابو سے کسی طرح باہر نہ نکل سکو گے۔ اعجزہ الشیئ، فاتہ و لم یقدر علیہ، اعجزہ الشیء کے معنی ہوں گے کہ فلاں چیز اس کے قبضہ سے نکل گئی اور وہ اس پر قابو نہ پا سکا۔ اس دھمکی میں یہ بات مضمر ہے کہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ چیز تو آ کے رہے گی۔