تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 156
اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ﴿156﴾
- اَنْکہ
- تَقُوْلُوْٓاتم کہو
- اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
- اُنْزِلَاتاری گئی تھی
- الْكِتٰبُکتاب
- عَلٰيپر
- طَآئِفَتَيْنِدو گروہ
- مِنْ قَبْلِنَاہم سے پہلے
- وَاِنْاور یہ کہ
- كُنَّاہم تھے
- عَنْسے
- دِرَاسَتِهِمْان کے پڑھنے پڑھانے
- لَغٰفِلِيْنَبیخبر
Translation · Tadabbur-e-Quran
مبادا تم کہو کہ کتاب بس ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ۔
ان تقولوا، یعنی کراھۃ ان تقولوا، یہ اسلوب اور یہ مضمون مائدہ آیت 19 میں بھی گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم پر یہ رحمت اس لیے نازل فرمائی ہے کہ مبادا کل کو تم خدا کے سامنے یہ عذر کرو کہ جس طرح یہود و نصاری کو کتاب عطا ہوئی آخر ہم کو اسی طرح کتاب کیوں نہیں عطا ہوئی، ان کا علم و مطالعہ ہمارے کیا کام آسکتا تھا، ہم تو ان کے علم و مطالعہ اور ان کے درس و تدریس و تعلم سے بیخبر رہی ہے۔