Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 160

  1. مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿160﴾

    1. مَنْجو
    2. جَآءَ بالْحَسَنَةِلائے کوئی نیکی
    3. فَلَهٗتو اس کے لیے
    4. عَشْرُدس
    5. اَمْثَالِهَااس کے برابر
    6. وَمَنْاور جو
    7. جَآءَ بالسَّيِّئَةِکوئی برائی لائے
    8. فَلَا يُجْزٰٓىتو نہ بدلہ پائے گا
    9. اِلَّا مِثْلَهَامگر اس کے برابر
    10. وَهُمْاور وہ
    11. لَا يُظْلَمُوْنَنہ ظلم کیے جائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس کا دس گنا بدلہ ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو اس کو بس اسی کے مثل بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا الایہ، یہ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ کی وضاحت ہے۔ ان کے اعمال کی خبر دینے سے مقصود ظاہر ہے کہ مجرد ان کو رپورٹ سنانا نہیں ہے بلکہ اس کا لازم یعنی جزا اور سزا ہے۔ چناچہ اس آیت میں واضح فرما دیا کہ جو نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا دس گنا صلہ پائے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا وہ ٹھیک ٹھیک اپنی برائی کے بقدر سزا پائے گا۔ نہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ کوئی کمی کی جائے گی، نہ برائی کرنے والوں کے ساتھ کوئی زیادتی۔ یہ ملحوظ رہے کہ آیت میں امثالہا اور مثلہا کے جو الفاظ ہیں ان سے مراد ان کا وہ مثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ٹہرا رکھا ہے۔ وہ مثل مراد نہیں ہو جو دنیا میں سمجھا جاتا یا سمجھا جاسکتا ہے۔ نیز یہاں نیکی کے صلہ کی جو مقدار بیان ہوئی ہے وہ کم سے کم ہے۔ اس سے اس فضل کی نفی نہیں ہوتی جو دوسرے مقامات میں مذکور ہے۔