تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 4
وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ﴿4﴾
- وَاور
- مَا تَاْتِيْهِمْان کے پاس نہیں آئی
- مِّنْسے۔ کوئی
- اٰيَةٍنشانی
- مِّنْسے
- اٰيٰتِنشانیاں
- رَبِّهِمْان کا رب
- اِلَّامگر
- كَانُوْاوہ ہوتے ہیں
- عَنْهَااس سے
- مُعْرِضِيْنَمنہ پھیرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4 - 5: تکذیب حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت : یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انہوں نے اس حق کو جھٹلایا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ‘ حق ’ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔