تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 44
Tafseerفَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ﴿44﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- نَسُوْاوہ بھول گئے
- مَا ذُكِّرُوْاجو نصیحت کی گئی
- بِهٖاس کے ساتھ
- فَتَحْنَاتو ہم نے کھول دئیے
- عَلَيْهِمْان پر
- اَبْوَابَدروازے
- كُلِّ شَيْءٍہر چیز
- حَتّٰىیہانتک کہ
- اِذَاجب
- فَرِحُوْاخوش ہوگئے
- بِمَآاس سے جو
- اُوْتُوْٓاانہیں دی گئی
- اَخَذْنٰهُمْہم نے پکڑا ان کو
- بَغْتَةًاچانک
- فَاِذَاپس اس وقت
- هُمْوہ
- مُّبْلِسُوْنَمایوس رہ گئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جب انہوں نے فراموش کردیا اس چیز کو جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے جو انہیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعۃً پکڑ لیا، وہ بالکل ہک دک رہ گئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ الایہ۔ ماذکرو بہ کے معنی ہوں گے جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی۔ یہاں اس سے اشارہ اسی باساء و ضراء یعنی مالی جسمانی مصائب کی طرف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے مبتلا کیا کہ وہ سمجھیں کہ اگر انہوں نے پیغمبر کی بات نہ مانی تو ان تنبیہات کے بعد اب آگے فیصلہ کن عذاب ہے کا مرحلہ ہے لیکن اس سے یہ سبق لینے کے بجائے انہوں نے ان کے گزر جانے کے بعد ان کو نظر انداز کردیا کہ قوموں کی زندگی میں اس طرح کے حوادث تو پیش آیا ہی کرتے، قحط، سیلاب، طوفات، وبا اور امراض سے کس قوم کو سابقہ نہیں پیش آیا ہے۔ قد مس آباءنا الضرا والسرا 4۔ اس طرح کے نرم و گرم حالات تو ہمارے اگلوں کو بھی پیش آ چکے ہیں۔ پھر یہ کیوں فرض کیا جائے کہ یہ کسی شخص کی تکذیب کا نتیجہ ہے۔
فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً ، اب یہ مذکورہ بالا سنت اللہ کا اگے کا مرحلہ بیان ہورہا ہے جس کو قرآن کے دوسرے مقامات میں ‘ امہال ’ یعنی ڈھیل دینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب پیغمبر کی تکزیب کرنے والے خدا کی تنبیہات کو نظر انداز کردیتے ہیں تو خدا ان کی سی دراز کردیتا ہے، ان کی تمام مطلوبات کے دروازے ان پر کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی کامیابیوں پر مگن ہونے، اترانے اور اکڑنے لگتے ہیں۔ یہ وقت ان کے پیمانہ کے لبریز ہوجانے کا ہوتا ہے۔ اس وقت خدا دفعۃً ان کو پکڑتا ہے پھر وہ بالکل مایوس اور ششدر ہو کے رہ جاتے ہیں۔ ‘ ابلس ’ کے لفظ پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔