تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 12
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾
- يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّاے نبی
- اِذَا جَآءَكَجب آپ کے پاس آئیں
- الْمُؤْمِنٰتُمؤن عورتیں
- يُبَايِعْنَكَآپ سے بیعت کرنے کیلئے
- عَلٰٓي اَنْاس پر کہ
- لَّا يُشْرِكْنَنہ وہ شریک کریں گی
- بِاللّٰهِاللہ کے ساتھ
- شَيْئًاکسی شے کو
- وَّلَا يَسْرِقْنَاور نہ وہ چوری کریں گی
- وَلَا يَزْنِيْنَاور نہ زناکریں گی
- وَلَا يَقْتُلْنَاور نہ وہ قتل کریں گی
- اَوْلَادَهُنَّاپنی اولاد کو
- وَلَا يَاْتِيْنَاور نہ لائیں
- بِبُهْتَانٍبہتان سے
- يَّفْتَرِيْنَهٗجو انہوں نے باندھا ہو
- بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّاپنے ہاتھوں کے درمیان
- وَاَرْجُلِهِنَّاور اپنے پاؤں
- وَلَا يَعْصِيْنَكَاور نہ آپ کی نافرمانی کرینگی
- فِيْ مَعْرُوْفٍمیں نیک کاموں
- فَبَايِعْهُنَّتو آپ ان سے بیعت لے لیں
- وَاسْتَغْفِرْاور مغفرت مانگیں
- لَهُنَّان کے لئے
- اللّٰهَ ۭاللہ سے
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے پیغمبر، جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کی مرتکب ہوں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو، بیشک اللہ غور و رحیم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(یایھا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولاد ھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولا یعصینک فی معروف فبایعھن واسغفرلھن اللہ ان اللہ غفور رحیم) (12)۔
(عام عورتوں سے متعلق ایک احتیاطی ہدایت)۔ اور جس طرح مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی اسی طرح اس آیت میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے آئیں وہ بھی یوں ہی داخل نہ کرلی جائیں بلکہ ان سے اسلام کے تمام معروفات کی پابندی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام رہی ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ میں ان برائیوں کے جراثیم پھیلنے نہ پائیں۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایت اس زمانے میں فرمائی گئی ہے جب مردوں کی طرح عورتوں کے بھی ہجوم کے ہجوم آنحضرت ﷺ کے پاس بیعت کے لیے آنے لگے ہیں اور ان میں بہت سی عورتیں ان طبقات سے تعلق رکھنے والی بھی ہوتیں جن کا اخلاقی معیار زمانہ جاہلیت میں بہت پست تھا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کو برائیوں سے بچتے رہنے کی خاص طور پر تاکید کی جائے تاکہ جس نئے معاشرے میں وہ داخل ہو رہی ہیں اس کی خصوصیات سے ان کو آگاہی ہو اور وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا ارادہ کر کے اس میں داخل ہوں۔ یہاں ان سے جن برائیوں سے بچنے کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہیں۔
(علی ان لا یشرکن باللہ شیئا) یہ کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ تمام دین کی بنیادتوحید خالص پر ہے اس وجہ سے سب سے پہلے شرک سے اجتناب کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی۔ ایک متوسط درجہ کے ذہن کے لیے توحید تک پہنچنے کا آسان راستہ شرک کی نفی ہی کی راہ سے کھلتا ہے۔ اگر شرک سے اجتناب کا شعور نہ ہو تو بہت سے لوگ شرک کی تمام آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے بھی یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ توحید خالص پر ہیں۔ (ولا یسرقن) دوسری چیز یہ ہے کہ چوری نہ کریں یعنی جس طرح خدا کے حقوق میں کسی قسم کا غلط تصرف ناجائز ہے اس طرح بندوں کے مال میں بھی بےجا تصرف ناجائز ہے۔ (ولا یزینن) تیسری چیز یہ ہے کہ زنا کی مرتکب نہ ہوں۔ زنا اور شرک کی مشابہت کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اشارے کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ولا یقتن اولاد ھن) چوتھی چیز یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ زمانہ جاہلیت میں قتل اولاد کا ارتکاب مشرکانہ توہمات کے تحت بھی ہوتا تھا، اندیشہ مغقرا اور بےجا غیرت کے تحت بھی۔ اس زمانے میں اس کے دوسرے محرکات بھی پیدا ہوگئے ہیں جو معروف ہیں۔ یہ ممانعت ان سب پر حاوی ہے۔ (ولا یا تین یبھتاک یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن) پانچویں چیز یہ ہے کہ کسی کے متعلق خواہ مرد ہو یا عورت کوئی ایسا بہتان نہ تراشیں جس کا تعلق ان کے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق ہو۔
(بین ایدیھن وارجلھن) سے اشارہ میرے نزدیک جنسی اعضاء کی طرف ہے۔ یہ اعضاء ہاتھوں اور پائوں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔ ان کی طرف اشارہ کے لیے یہ ایک شائستہ اسلوب بیان ہے۔ اس میں پردہ پوشی کے ساتھ پورا احاطہ بھی ہے۔ نہایت مہذب اسلوب سے ان تمام تہمتوں کی طرف اشارہ ہوگیا ہے جو جنسی نوعیت کی ہو سکتی ہے، مثلاً زنا، تقبیل اور ملامست وغیرہ۔
بہتان لگانا، کسی قسم کا بھی ہو، نہایت سنگین برائی ہے لیکن جس بہتان کا تعلق جنسی امور سے ہو اس کی سنگینی دو چند بلکہ وہ چند ہوجاتی ہے اس لیے کہ اس طرح کا بہتان اس شخص کی (خواہ مرد ہو یا عورت) حیثیت عرنی پر نہایت خطرناک حملہ ہے جس پر بہتان لگایا گیا ہے۔ اس سے معاشرے کے اندر بسا اوقات ایسے فتنے بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کو دبانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ بہتان کوئی مرد لگائے یا کوئی عورت دونوں ہی کے لیے گناہ ہے اور شریعت میں دونوں ہی کے لیے اس کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن یہاں خاص طور پر عورتوں کو اس سے روکا گیا ہے اس لیے کہ عورتوں کا بہتان اور وہ بھی جنسی نوعیت کا ایک ایسا خطرناک وار ہے جس کا دفاع نہایت مشکل ہے۔ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس ٹکڑے کا یہ مطلب لیا ہے کہ کوئی عورت کسی غیر مرد کے حمل کو اپنے شوہر سے منسوب نہ کرے لیکن اس کو اس قدر محدود کردینے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں نے اس کے الفاظ کی روشنی میں اس کی وسیع تاویل کی ہے جس کے اندر وہ ساری باتیں آجاتی ہیں جو اس کے تحت آسکتی ہیں۔
(ولا یعصینک فی معروف) چھٹی چیز یہ ہے کہ کسی معروف کی تعمیل میں وہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (معروف) یہاں (منکر) کے مقابل میں ہے اور جن جن باتوں کا حوالہ ہے ان سب کا تعلق منکرات کے باب سے ہے۔ ان میں معروفات یعنی نماز زکوٰۃ، روزہ، حج اور عدل و احسان کے قسم کی چیزوں میں سے کسی چیز کا بھی ذکر نہیں آیا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا یہ ہے کہ یہ ان عورتوں کی بیعت کا ذکر ہے جو فتح مکہ کے دور میں بکثرت اسلام میں داخل ہو رہی تھیں اور جن کے اندر زمانہ جاہلیت میں یہ برائیاں پائی جاتی تھیں جن کا یہاں ذکر ہے۔ یہ خاص تور حال مقتضی ہوئی کہ منکرات سے بچتے رہنے کا تو ان سے صراحت و تفصیل کے ساتھ اقرار کرایا جائے اور معروفات سے متعلق آخر میں ایک جامع اقرار لے لیا جائے کہ شریعت کے معروفات میں سے کسی معروف کی تعمیل میں وہ پیغمبر ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ شریعت کے مصروفات معلوم و مشہور ہیں اس وجہ سے ان کی تفصیل کی ضرورت یہاں نہیں تھی۔
(ایک غلط فہمی)۔ بعض لوگوں نے (فی معروف) کے الفاظ یہاں قید و شرط کے مفہوم میں لیے ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اسلام میں پیغمبر کی اطاعت بھی معروف کی قید سے مقید و مشروط ہے تو تابہ دیگراں چنہ رسد ! ہمارے نزدیک یہ نکتہ محض ایک نکتہ بارد ہے۔ پیغمبر نہ کسی منکر کا حکم دیتا ہے نہ دے سکتا ہے۔ وہ دین کے معاملے میں وہی بات کہتا ہے جو معروف ہوتی ہے اس لیے کہ وہ خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اور اس کی حیثیت حق و باطل کے امتیاز کے لیے ایک کسوٹی کی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے ہر حکم کی اطاعت لازمہ ایمان ہے۔ جب وہ خود معروف و منکر کے امتیاز کی کسوٹی ہوا تو کسی دوسرے کے لیے اس کی کسی بات کو معروف کے خلاف قرار دینے کے کیا معنی پیغمبر کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں صرف تابہ حد استطاعت کی قید ہو سکتی ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ بیعت کرنے والوں کو خود یاددہانی فرما کر یہ قید لگوا دیتے تھے لیکن اس کی اطاعت کے معروف کی قید سے مقید ہونے کی بات بالکل بےمعنی ہے۔ البتہ پیغمبر ﷺ کے خلفاء و امراء کے ہاتھ پر جو بیعت ہوگی وہ اطاعت فی المعروف کی قید سے مشروط ہوگی اس لیے کہ ان سے امکان ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے بیٹھیں جو معروف کے خلاف ہو چناچہ رسول کے بعد کسی کی بھی مطلق اطاعت کا عہد کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔ عورتوں سے بیعت لینے کے طریقہ کی وضاحت روایات میں موجود ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جو حدیثوں میں بیان ہوئی ہیں، البتہ یہ بات مسلم ہے کہ عورتوں سے بیعت لینے میں حضور ﷺ نے ان کے ہاتھ کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیے۔
(فبالیھن واستغفر لھن اللہ ان اللہ غفور رحیم) فرمایا کہ جو عورتیں ان تمام منکرات سے بچتے رہنے اور دین کے تمام معروفات کی پابندی کا اقرار کریں ان سے بیعت لو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو کہ اس سے پہلے ان سے جو غلطیاں صادر ہوئی ہیں وہ ان سے در گزر فرمائے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے وہ ان پر رحم فرمائے گا۔