تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 37
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ﴿37﴾
- اَمْ لَكُمْیا تمہارے لیے
- كِتٰبٌکوئی کتاب
- فِيْهِجس میں
- تَدْرُسُوْنَتم پڑھتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مستکبرین کے ایک مغالطہ پر ضرب:
یہ قریش کے ان مستکبرین کی ایک اور آرزوئے باطل پر ضرب لگائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت واخرت اول تو کوئی چیز ہے نہیں اور ہے تو ہمیں جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بہتر وہاں حاصل ہو گا۔ ان کے اس مغالطہ کی بنیاد اس واہمہ پر تھی کہ اگر وہ خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو یہ عزت و سیادت انھیں اس دنیا میں کس طرح حاصل ہوتی! تو جب خدا کے منظور نظر ہوئے تو جو کچھ انھیں یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ تم کو اس مغالطہ میں کس چیز نے ڈالا؟ کیا تمہارے پاس خدا کا اتارا ہوا کوئی صحیفہ ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی؟ مطلب یہ ہے کہ جس کی آرزوئیں تم نے اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں عقل و فطرت کے اندر تو ان کی کوئی بنیاد ہے نہیں، ہاں اگر کوئی آسمانی صحیفہ تمہارے پاس ہے جس میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں تو اس کو پیش کرو۔