تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 69. Al-Haaqqa · Ayah 20
اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ﴿20﴾
- اِنِّىْبیشک میں
- ظَنَنْتُمیں یقین رکھتا تھا
- اَنِّىْکہ بیشک میں
- مُلٰقٍملاقات کرنے والا ہوں
- حِسَابِيَهْاپنے حساب سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
میں نے گمان رکھا کہ مجھے اپنے حساب سے دوچار ہونا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ساتھ ہی وہ اپنی اس عظیم کامیابی کا سبب بھی بتائے گا کہ میں نے ہمیشہ اپنے دل میں یہ گمان رکھا کہ مجھے ایک دن اپنے زندگی کے حساب کتاب سے دوچار ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی گمان نے میری حفاظت کی اور میں ایک ایسا اعمال نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کو دوسروں کے سامنے نہایت خوشی کے ساتھ پیش کر سکوں۔
جزا اور سزا کو ماننے کے لیے ظن غالب کافی ہے: ’ظَنٌّ‘ یہاں ظن غالب کے مفہوم میں ہے۔ آفاق و انفس اور انبیاء و حکماء کی تعلیم میں جزا و سزا کے ایسے دلائل موجود ہیں کہ آدمی بالکل ہی بلید اور لاابالی نہ ہو تو اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ زندگی یوں ہی نہیں تمام ہو جائے گی بلکہ ایک دن جزا اور سزا سے سابقہ پیش آنا بھی لازمی ہے۔ اگرچہ اس بات پر اس کو اس طرح کا یقین تو نہیں ہوتا جو آنکھوں دیکھی چیز پر ہوا کرتا ہے لیکن ایسا ظن غالب ضرور ہوتا ہے جس کے بعد وہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ اس کو نظر انداز کر کے زندگی گزارے اور عاقبت کی کوئی پروا نہ کرے۔ اس ظن غالب سے آخرت پر جو ایمان پیدا ہوتا ہے وہ بالتدریج ایمانی تجربات سے مضبوط ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ درجہ بدرجہ یقین کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اگر آدمی اس ظن غالب کو نظر انداز کر کے اس انتظار میں رہے کہ جب اس کو آخرت کا یقین ہو جائے گا تب اس کو مانے گا تو یہ انتظار اسی دن ختم ہو گا جس دن وہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس دن کا ایمان اس کے لیے بالکل بے سود ہو گا۔