تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 115
Tafseerقَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ﴿115﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- يٰمُوْسٰٓياے موسیٰ
- اِمَّآیا
- اَنْیہ کہ
- تُلْقِيَتو ڈال
- وَاِمَّآاور یاد (ورنہ)
- اَنْیہ کہ
- نَّكُوْنَہوں
- نَحْنُہم
- الْمُلْقِيْنَڈالنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بولے اے موسیٰ ، یا تو پہلے تم پیش کرو، یا ہمیں پیش کرنے والے بنتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۔ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۔
حضرت موسیٰ کا اعتماد اللہ پر : ساحروں نے اپنے پیشہ وارانہ اخلاق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگرچہ پیش کش تو حضرت موسیٰ کو کی کیہ وہ چاہیں تو پہلے اپنا فن دکھائیں لیکن دبی زبان سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ وہ پہل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت موسیٰ نے پہلے انہی کو موقع دیا کہ وہ اپنا ہنر دکھائیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ کو پورا اعتماد تھا کہ انہیں خدا کی تائید حاصل ہے اس وجہ سے یہ ساحر کتنا ہی بڑا جادو دکھائیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے سحر کو باطل کر کے رہے گا۔