Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 144

  1. قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿144﴾

    1. قَالَکہا
    2. يٰمُوْسٰٓياے موسیٰ
    3. اِنِّىبیشک میں
    4. اصْطَفَيْتُكَمیں نے تجھے چن لیا
    5. عَلَيپر
    6. النَّاسِلوگ
    7. بِرِسٰلٰتِيْاپنے پیغام (جمع)
    8. وَبِكَلَامِيْاور اپنے کلام سے
    9. فَخُذْپس پکڑ لے
    10. مَآ اٰتَيْتُكَجو میں نے تجھے دیا
    11. وَكُنْاور رہو
    12. مِّنَسے
    13. الشّٰكِرِيْنَشکر گزار (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
فرمایا اے موسیٰ میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغام اور اپنے کلام سے سرفراز کیا تو میں نے جو کچھ تم کو دیا اس کو لو اور شگر گزاروں میں سے بنو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے پیغام اور اپنے کلام سے تم کو لوگوں پر جو برگزیدگی بخشی ہے تمہارے شرف کے لیے یہی بس ہے، میں نے جو تعلیم وہدایت تمہیں عطا فرمائی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو اور برابر میرے شکر گزار رہو۔ یعنی اس کا حق ادا کرو۔ خود بھی دل و جان سے اس کی قدر کرو، دوسروں کو بھی یہ بتاؤ اور سکھاؤ۔ انداز کلام سے یہ بات بھی نہایت لطیف طریقہ سے نکلتی ہے کہ جو عطا ہوا ہے تمہارے لیے یہی بت ہے اس پر قناعت کرو میرے دیدار کی خواہش نہ کرو۔