Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 146

  1. سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿146﴾

    1. سَاَصْرِفُمیں عنقریب پھیر دوں گا
    2. عَنْسے
    3. اٰيٰتِيَاپنی آیات
    4. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    5. يَتَكَبَّرُوْنَتکبر کرتے ہیں
    6. فِي الْاَرْضِزمین میں
    7. بِغَيْرِ الْحَقِّناحق
    8. وَاِنْاور اگر
    9. يَّرَوْاوہ دیکھ لیں
    10. كُلَّ اٰيَةٍہر نشانی
    11. لَّا يُؤْمِنُوْانہ ایمان لائیں
    12. بِهَااس پر
    13. وَاِنْاور اگر
    14. يَّرَوْادیکھ لیں
    15. سَبِيْلَراستہ
    16. الرُّشْدِہدایت
    17. لَا يَتَّخِذُوْهُنہ پکڑیں (اختیار کریں)
    18. سَبِيْلًاراستہ
    19. وَاِنْاور اگر
    20. يَّرَوْادیکھ لیں
    21. سَبِيْلَراستہ
    22. الْغَيِّگمراہی
    23. يَتَّخِذُوْهُاختیار کرلیں اسے
    24. سَبِيْلًاراستہ
    25. ذٰلِكَیہ
    26. بِاَنَّهُمْاس لیے کہ انہوں نے
    27. كَذَّبُوْاجھٹلایا
    28. بِاٰيٰتِنَاہماری آیات کو
    29. وَكَانُوْااور تھے
    30. عَنْهَااس سے
    31. غٰفِلِيْنَغافل (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
میں ان لوگوں کو جو زمین میں ناحق گھمنڈ کرتے ہیں اپنی نشانیوں سے برگشتہ کروں گا اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں بھی دیکھ لیں گے تو بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ اگر ہدایت کی راہ دیکھیں گے تو اسے تو نہ اپنائیں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں گے تو اسے اپنائیں گے یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروا بنے رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ۔ ایک برسر موقع تنبیہ : یہ برسر موقع ایک جامع تنبیہ و تذکری ہے کہ کون لوگ ان تعلیمات کی قدر کریں گے، ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون ان سے منہ موڑیں گے اور اس کے نتیجہ میں آخرت کی محرومی سے دوچار ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی زمین میں رہتے بستے اپنے آپ کو خدا سے بےنیاز، اس کے امر و حکم سے اپنے آپ کو بالا تر، اور اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنا استحقاق ذاتی سمجھیں گے، اللہ ان کو ہدایات کی طرف مائل ہونے کی توفیق نہیں دے گا ایسے لوگوں کے اندر خیر اور ہدایت کی رغبت مردہ ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کو ہدایت کی راہ دکھائی جائے تو وہ اس سے بھاگتے ہیں اور اگر گمراہی کی راہ کی دعوت دی جائے تو اس پر فوراً چل پڑتے ہیں۔ ان کی یہ حالت نتیجہ ہوتی ہے اس بات کا کہ وہ خدا کی نشانیوں سے بےپروا زندگی گزارتے ہیں اور واضح سے واضح بات بھی ان کے سامنے آئے تو اس کو جھٹلا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ کی آیات اور آخرت کی ملاقات کے جھٹلانے والے ہیں، ان کے سارے اعمال اکارت اور بےثمر ہو کے رہ جائیں گے۔ آخرت میں صرف اس عمل کی قدر و قیمت ہے جو خدا کی رضا کے لیے آخرت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔