Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 180

  1. وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿180﴾

    1. وَلِلّٰهِاور اللہ کے لیے
    2. الْاَسْمَآءُنام (جمع)
    3. الْحُسْنٰىاچھے
    4. فَادْعُوْهُپس اس کو پکارو
    5. بِهَاان سے
    6. وَذَرُوااور چھوڑ دو
    7. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    8. يُلْحِدُوْنَکج روی کرتے ہیں
    9. فِيْٓ اَسْمَآئِهٖاس کے نام
    10. سَيُجْزَوْنَعنقریب وہ بدلہ پائیں گے
    11. مَاجو
    12. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ کے لیے تو صرف اچھی ہی صفتیں ہیں تو انہیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے باب میں کجروی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچ کر رہے ہیں، عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ یہ آیت، اوپر آیت 172 میں توحید کا عہد فطرت ہونا جو بیان ہوا ہے، اس سے متعلق ہے، بیچ میں ان لوگوں کا ذکر آگیا تھا جنہوں نے اللہ کی آیات کی قدر نہیں کی اور خدا کی طرف سے نہایت اعلی صلاحیتیں پا کر اندھے بہرے بن گئے۔ اب یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صرف اچھی ہی صفتیں اور اچھے ہی نام ہیں تو اس کو انہیں صفتوں سے پکارو اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو، جو صفات الٰہی کے باب میں گمراہی کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں، اس کے شریک ٹھہراتے ہیں یا اس کے بیٹے بیٹیاں مانتے ہیں۔ یہ باتیں خدا کی صفات الوہیت، اس کی شان یکتائی، اس کی قدرت، اس کی بےنیازی اور اس کے علم کی نفی کرنے والی ہیں۔ خدا کو صرف انہی صفت سے متصفت کرنا چاہیے جن کا اس کی الوہیت اور اس کی بےہمگی اور بےہمتائی کے ساتھ جوڑ ہوسکے، کوئی ایسی صفت اس کی طرف منسوب نہیں کرنی چاہیے جو خالق کو مخلوقات کی صف میں لا کر کھڑا کردے۔ الحاد کا لفظ یہاں صفات الٰہی کی بےحرمتی کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ عربی میں اگر کہیں فلان الحد فی الحرم تو اس کے معنی ہوں گے استحل حرمتہ وانتھکھا، یلحدون فی اسمائہ کے معنی ہوئے جو خدا کی صفات کی بےحرمتی و بےتوقیری کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ لگاتے ہیں جو اس کی ذات وصفات کی اہانت کرنے والی ہیں اور جن سے وہ پاک و برتر ہ۔ یہ جو فرایا کہ ‘ ان کو چھوڑو ’ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اگر نہیں مانتے تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ سیجزون ما کانوا یعمولم یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی سزا عنقریب خود بھگتیں گے۔