تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 201
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ﴿201﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اتَّقَوْاڈرتے ہیں
- اِذَاجب
- مَسَّهُمْانہیں چھوتا ہے (پہنچتا ہے
- طٰٓئِفٌکوئی گزرنے والا (وسوسہ)
- مِّنَسے
- الشَّيْطٰنِشیطان
- تَذَكَّرُوْاوہ یاد کرتے ہیں
- فَاِذَاتو فوراً
- هُمْوہ
- مُّبْصِرُوْنَدیکھ لیتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاھق ہونے لگتی ہے وہ خدا کا دھیان کرتے ہیں اور دفعۃ ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔ اوپر خذ العفوا میں خطاب اگرچہ واحد سے ہے لیکن یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت ﷺ واسطے سے تمام مسلمانوں سے چناچہ اس آیت میں جمع کے اسلوب نے اس مخفی حقیقت کو واضح کردیا۔ فرمایا کہ جو لوگ جہالت کے بجائے تقوی کی روش اختیار کرتے ہیں جب کبھی ان کو جاہلوں کی جہالت اور شیاطین کی شیطنت کا کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں جس سے فوراً ان کا باطن روشن ہوجاتا ہے اور اشرار و معاندین کی ساری خاکبازی کے باوجود ان کی راہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے پاتی۔ یہ گویا اس استعاذہ کا طریقہ اور فائدہ بتا دیا گیا جس کی اوپر والی آیت میں ہدایت ہوئی ہے کہ خدا کی پناہ میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کو یاد کرے یہ چیز دل کے اندر ایسی بصیرت اور ایسی قوت و ہمت پیدا کر دے گی کہ دفعۃً آنکھوں کے آگے سارا غبار چھٹ جائے گا۔