Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 4

  1. وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ﴿4﴾

    1. وَكَمْاور کتنی ہی
    2. مِّنْسے
    3. قَرْيَةٍبستیاں
    4. اَهْلَكْنٰهَاہم نے ہلاک کیں
    5. فَجَآءَهَاپس ان پر آیا
    6. بَاْسُنَاہمارا عذاب
    7. بَيَاتًارات میں سوتے
    8. اَوْ هُمْیا وہ
    9. قَآئِلُوْنَقیلولہ کرتے (دوپہر کو آرام کرتے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچاک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۔ قریہ کا مفہوم : قریۃ کا لفظ قریہ اور اہل قریہ دونوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیر میں، اشارات اور فعل وغیرہ استعمال کرنے میں، کبھی لفظ کا اعتبار کرتے ہیں، کبھی مفہوم کا۔ یہ اسلوب ہر زبان میں عام ہے۔ قَاىِٕلُوْنَ ، قیلولہ سے ہے۔ قیلولہ کے معنی دوپہر منانے کے ہیں، سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ عرب کا ملک، گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مکانوں، ڈیروں، خیموں اور باغوں میں آرام کریں۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی : بعض اہل تاویل کو فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ کے الفاظ سے یہ خیال ہوا ہے کہ اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب لوگ رات میں یا دن میں سوئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بیان کے بھی۔ سورة انعام میں ہے قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ (47) ، کہو، بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک چپکے سے یا کھلم کھلا آدھمکے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا۔ اسی سورة اعراف میں معذبت قوموں کی سرگزشتیں سنانے کے بعد ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97) أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) (کیا یہ بستیوں والے مامون ہوئے اس بات سے کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آدھمکے جب کہ وہ لہو ولعب میں مشغول ہوں) ہمارے نزدیک فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے کہ خدا کا عذاب اس وقت آیا کرتا ہے جب لوگ سوئے ہوتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ خدا کا عذاب شب کی تاریکیوں میں چپ چپاتے بھی آیا اور ڈنکے کی چوٹ دن دھاڑے بھی۔ جس وقت بھی آیا آگیا، نہ کوئی اس کو روک سکا اور نہ کوئی اس سے اپنے آپ کو بچا سکا۔ صرف وہ لوگ اس سے بچ سکے جن کو اللہ کی امان حاصل ہوئی۔