Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 36

  1. فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾

    1. فَمَالِ الَّذِيْنَتو کیا ہے ان لوگوں کو
    2. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    3. قِبَلَكَآپ کی طرف۔ آپ کے سامنے
    4. مُهْطِعِيْنَدوڑ کے آنے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم پر پلے پڑ رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں؂۱ بنا بنا کر آنحضرت ﷺ کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔؂۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس طمع خام میں یہ مبتلا ہیں تو ان کی یہ توقع کبھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان برخود غلط اغنیاء کی اس طمع خام کا ذکر قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ حٰمٓ السجدہ میں ہے: ’وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَۃَ قَائِمَۃً وَلَئِنۡ رُّجِعْتُ إِلٰٓی رَبِّیْ إِنَّ لِیْ عِنۡدَہُ لَلْحُسْنٰی‘ (۵۰) (اور میں اول تو یہ گمان ہی نہیں رکھتا کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہوا تو میرے لیے اس کے پاس اچھا ہی صلہ ہے)۔ سورۂ قلم میں انہی مغروروں کی تردید ان الفاظ میں فرمائی گئی ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُوۡنَ ۵ اَمْ لَکُمْ کِتَابٌ فِیْہِ تَدْرُسُوۡنَ ۵ إِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۸) ’’کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح بنا دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو! کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو پسند کرتے ہو!‘‘ _____ ؂۱ قرآن میں لفظ ’عزین‘ آیا ہے جو ’عزۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی گروہ اور موالی کے ہیں۔ ؂۲ لفظ ’اھطاع‘ کے معنی کسی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے ہیں۔