Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 9

  1. وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ﴿9﴾

    1. وَتَكُوْنُ الْجِبَالُاور ہم دیکھ رہے ہیں اس کو
    2. كَالْعِهْنِدھنی ہوئی روئی کی طرح
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ‘۔ لفظ ’عِہْنٌ‘ کے معنی اون کے ہیں اور اس سے مراد یہاں دھنی ہوئی اون ہے، جیسا کہ سورۂ قارعہ میں فرمایا ہے: ’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنفُوْشِ‘ (القارعہ ۱۰۱: ۵) (اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے)۔ یہ احوال قیامت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جو ازقبیل متشابہات ہیں۔ ان کی اصل حقیقت یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لیکن ذہن اس طرف جاتا ہے کہ آسمان کی سرخی نتیجہ ہو گی جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند پراگندہ کر دیے جائیں گے تاکہ جو لوگ پہاڑوں کو لازوال سمجھتے رہے ہیں وہ ان کی بے ثباتی کا مشاہدہ کر لیں۔ ظاہر ہے کہ جب پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو دوسری چیزوں کا کیا ذکر! یہ باتیں ان نادانوں کی تنبیہ کے لیے سنائی گئی ہیں جن کو اپنی قوت و جمعیت اور اپنے قلعوں اور گڑھیوں پر بڑا ناز تھا۔۔۔ معلوم ہوا کہ اس دن سارا شیرازہ درہم برہم ہو جائے گا اور ایک نیا عالم بالکل نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا۔