Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 11

  1. وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ﴿11﴾

    1. وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
    2. مِنَّاہم میں سے
    3. الصّٰلِحُوْنَنیکو کار (جمع)
    4. وَمِنَّااور ہم میں سے
    5. دُوْنَ ذٰلِكَ ۭاسکے علاوہ
    6. كُنَّاہم تھے
    7. طَرَآئِقَراہیں
    8. قِدَدًامختلف
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ ہم میں بھی نیک اور اس سے مختلف قسم کے لوگ ہیں، ہماری راہیں الگ الگ ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وصل و فصل کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چاہیے: یعنی اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کر دیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہم میں سب ایک ہی راہ پر چلنے والے نہیں ہیں بلکہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان اور کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہماری قوم اور قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، نیک ہے یا بد۔ یہ گویا انھوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے اعلان براء ت کیا ہے جو ان کی اس دعوت ایمان کے بعد بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے ضد کریں۔ اس طرح کا اعلان تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوموں کے سامنے کیا اور ہر دور کے مصلحین نے بھی انبیاء علیہم السلام کی اس سنت کی پیروی کی جس کی ایک واضح مثال اصحاب کہف کا رویہ ہے جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے۔ ’طَرَائِقُ‘ کے معنی راستے اور مسلک و مذہب کے ہیں اور ’قِدَدٌ‘ کے معنی متفرق کے۔