تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 15
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ﴿15﴾
- اِنَّآ اَرْسَلْنَآبیشک ہم نے بھیجا
- اِلَيْكُمْتمہاری طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
- شَاهِدًاگواہی دینے والا
- عَلَيْكُمْتم پر
- كَمَآ اَرْسَلْنَآجیسے ہم نے بھیجا
- اِلٰى فِرْعَوْنَفرعون کی طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرغون کی طرف ایک رسول بھیجا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کو تنبیہ:
آنحضرت ﷺ کو ضروری ہدایات دینے کے بعد اب یہ قریش کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف اپنا ایک رسول بھیجا تھا اسی طرح تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیج دیا ہے تاکہ وہ ہمارے خاص شاہد کی حیثیت سے تمہیں بتا دے کہ ہماری پسند اور ہمارے احکام کیا ہیں اور تم نے ان کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ملے گا اور اگر اس کی نافرمانی کی تو اس کا انجام کیا ہو گا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تکذیب و توہین کر رہے ہو اس کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو اچھی طرح جان اور سمجھ لو کہ اس کی تکذیب کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ کوئی سائل یا محض واعظ نہیں ہے جس کے ردو قبول کی کوئی خاص اہمیت نہ ہو بلکہ اللہ نے اس کو تمہارے اوپر حق کی گواہی دینے کے لیے بھیجا ہے اس وجہ سے اس کے ذریعہ سے لازماً حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہونے والا ہے اور یہ فیصلہ اسی طرح ہو گا جس طرح موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا۔ جس طرح فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے اس کو پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ اس کو کوئی پناہ نہ مل سکی اسی طرح تمہیں بھی وہ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی اس کے پنجہ سے تمہیں چھڑا نہ سکے گا۔
’شَاہِدًا عَلَیْکُمْ‘ کے مفہوم کی پوری وضاحت ہم ’لِّتَکُونُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا‘ (البقرہ ۲: ۱۴۳) کے تحت کر چکے ہیں۔