Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 18

  1. اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا﴿18﴾

    1. السَّمَآءُآسمان
    2. مُنْفَطِرٌۢپھٹ جائے گا
    3. بِهٖ ۭاس سے
    4. كَانَہے
    5. وَعْدُهٗاس کا وعدہ
    6. مَفْعُوْلًاپورا ہوکر رہنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے اور اللہ کا وعدہ شدنی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی روز قیامت کو کوئی اَن ہونی بات نہ خیال کرو۔ آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھٹ پڑے اور قیامت اس کے اندر سے نمودار ہو جائے اور تم اسی طرح اس سے غفلت ہی میں رہو۔ یہی مضمون سورۂ اعراف میں اس طرح بیان ہوا ہے: ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغَتَۃً.(الاعراف ۷: ۱۸۷) (آسمان و زمین دونوں اس کے حمل سے بوجھل ہیں، وہ تمہارے اوپر اچانک ہی آ دھمکے گی)۔ یعنی آخرت کوئی محتاج ثبوت چیز نہیں ہے، اس کے ظہور کا وقت اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے لیکن اس کے شواہد آسمان و زمین میں اس طرح نمایاں ہیں جس طرح آخری دنوں میں حاملہ کا حمل ہوتا ہے۔ اس کے جننے کا صحیح وقت کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ہر آنکھ رکھنے والا جانتا ہے کہ وہ جنے گی۔ اسی طرح قیامت کے آثار نمایاں ہیں اور آسمان اس کے بوجھ سے اس طرح پھٹا پڑ رہا ہے کہ ہر لمحہ اس کا ظہور متوقع ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو صرف اس بنا پر اس سے نچنت ہیں کہ ان کو اس کا صحیح وقت نہیں بتایا گیا۔