تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 11
ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ﴿11﴾
- ذَرْنِيْمجھے چھوڑدو
- وَمَنْاور جسے
- خَلَقْتُمیں نے پیدا کیا
- وَحِيْدًااکیلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مکہ اور طائف کے لیڈروں کو تنبیہ:
یہ مکہ اور طائف کے ان برخود غلط لیڈروں کو نہایت تیز و تند لہجہ میں تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی و رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظور نظر ہونے کی دلیل سمجھتے اور یہ توقع رکھتے تھے کہ آخرت ہوئی تو ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں، جیسا کہ ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ بلکہ ان کو یہاں جو کچھ حاصل ہے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ ایسے سرپھروں کا معاملہ تم ہمارے اوپر چھوڑو۔ ہم ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ تم ان کی فکر میں زیادہ پریشانی نہ اٹھاؤ۔
’ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘۔ یہ وہی اسلوب بیان ہے جو سابق سورہ میں بالکل اسی موقع و محل میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: ’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النَّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلاً‘ (المزمل ۷۳: ۱۱) وہاں اس اسلوب کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔
’خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ نہ اس کا مال و جاہ ہوتا ہے نہ اس کا لاؤ لشکر۔ یہ چیزیں ملتی ہیں تو خدا کی عنایت سے ملتی ہیں اور یہ اسی وقت تک ساتھ رہتی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ان کا حق یہ ہے کہ انسان ان کو پا کر اپنے رب کا زیادہ سے زیادہ شکرگزار بنے نہ کہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے کہ وہ خدا کا بڑا چہیتا ہے اور آخرت ہوئی تو وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ یہ مضمون دوسری جگہ اس طرح ادا ہوا ہے:
’وَلَقَدْ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ (الانعام ۶: ۹۴)
(اور تم ہمارے پاس آئے تن تنہا جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا)۔
مطلب یہ ہے کہ تم اس برخود غلط مغرور کو جو دنیا میں آیا تو اسی طرح جس طرح ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ سے تنہا آیا ہے لیکن ہم نے اس کو مال و جاہ عنایت کیا تو وہ اپنے کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا اور اب اس کو آخرت سے ڈرایا جا رہا ہے تو وہ اس رعونت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ آخرت میں اس سے بھی زیادہ کا حق دار ٹھہرے گا۔
اشارہ ایک خاص ذہنیت کی طرف نہ کہ خاص شخص کی طرف: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص شخص کی طرف اشارہ ہے یا مکہ اور طائف کے عام دولت مندوں کا ذہن بیان ہو رہا ہے؟ مفسرین نے اس سے قریش کے لیڈروں میں سے ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ذہن صرف ولید بن مغیرہ ہی کا نہیں بلکہ قریش کے تمام سرداروں اور دولت مندوں کا تھا اور قریش ہی کی کیا خصوصیت ہے آج بھی جن کو مال و جاہ حاصل ہو جاتا ہے ان کے اندر یہی خناس سما جاتا ہے۔ کوئی ایسا ہی باتوفیق ہوتا ہے جو اس فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سمجھنا تو صحیح نہیں ہے کہ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں البتہ ان آیات میں جس ذہن اور جس کردار کی تصویر ہے اس کا ایک مصداق اس کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم مقدمۂ کتاب میں واضح کر چکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں کے بارے میں ہے تو اس سے ان کی مراد لازماً یہی نہیں ہوتی کہ خاص اسی کے بارے میں نازل ہوئی بلکہ بسا اوقات اس سے ان کا مقصود آیت کے ایک مصداق کی طرف اشارہ کر دینا ہوتا ہے۔ یہ مضمون صرف یہیں نہیں بیان ہوا ہے بلکہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے مقصود متمردین کی عام ذہنیت کی طرف اشارہ کرنا ہے نہ کہ کسی خاص شخص کی طرف۔
یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں حرف ’مَنْ‘ استعمال ہوا ہے جو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے لیے ضمیریں بھی دونوں ہی طرح آ سکتی ہیں۔