Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 20

  1. ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ﴿20﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. قُتِلَوہ مارا جائے گا
    3. كَيْفَکیسا
    4. قَدَّرَاس نے اندازہ کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہلاک ہو، کتنی غلط بات بنائی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ ثم نظر ثم عبس و بسرہ ثمہ ادبرداسکتر ‘ یہ اس کے اس متکبر از انداز کی تصویر ہے جو اس نے رائے ظاہر کرتے ہوئے اختیار کیا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے ایسی مکمل تصویر کھینچی ہے کہ اگر اس کے بعد اس کی رائے کا ذکر نہ بھی ہوتا جب بھی ایک ادا شناس نہایت آسانی سے سمجھ لیتا کہ یہ انداز کس رائے کی غمازی کررہا ہے۔ فرمایا کہ پہلے تو اس نے تفکر سے سراٹھا کر لوگوں کے چہروں کا جائزہ لیا تکہ ان کے موڈ کا اندازہ کرسکے کہ اس رائے کے اظہار کے لئے ساعت ساز گار ہے یا نہیں۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا تاکہ دیکھنے والوں کو اس کے اس انداز ہی سے پتہ چل جائے کہ اس غور و فکر کے بعد میں نے قرآن کے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ نہایت ہی مایوس کن ہے پھر وہ نہایت استکبار کے ساتھ پیٹھ پھیر کر وہاں سے کچھ بڑا بڑاتا ہوا چل کھڑا ہوا۔ ’ فقال ان ہذا الال سحر یو ثرہ ان ھذا الا تول البشر ‘ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ ادائوں اور حرکتوں ہی نے ساراواز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کردیے کہ وہ کیا زہراگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آہا ہے اور یہ وہمحص بشری کلام ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ اس کے بےمنل فصاحت و بلاغت اور اس کی بےپناہ تاثیر و تسخیہ کا انکار جب ان کے لیے ممکن نہیں رہا تو اس کہ خلاف انہوں نے یہ پروپگینڈا شروع کردیا کہ وہ جادو ہے تاکہ عوام کے دلوں پر اس کے الہامی و خدائی کلام ہونے کا رعب جو بیٹھتا جارہا تھا ات کا توڑ کریں۔ اس کو جادو کہہ کر وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اس کے اندر جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ آسمان سے اتر ہوا کلام ہے بلکہ یہ محض الفاظ و زبان کی جادوگری ہے اور یہ کوئی ایسی نادر چیز نہیں ہے جو پہلی مرتبہ ظہور میں آئی اور قرآن ہی کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ یہ پہلے سے چلی آرہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس ملک میں اس سے پہلے بھی ایسے خطیب و شاعر گزر چکے ہیں جن کے کلام میں یہ جادو موجود تھا لیکن ان کو نہ کسی نے خدا کا فرستادہ مانا نہ انہوں نے خود کوئی فرستادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ان کے کلام کو کسی نے کلام الہیٰ سمجھا تو اسی کلام کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کوئی خدائی ہونے کا درجہ دے دیا جائے ! ’ ان ھذا الا قول البشر ‘ یعنی یہ محض یہ بشری کلا ہے اس کے ساحرانہ اسلوب بیان کو جتنی اہمیت چاہو دو ہم کو اس سے انکار نہیں ہے لیکن اس کو آسمان پر چڑھانے کی کوشش نہ کرو۔