Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 24

  1. فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ﴿24﴾

    1. فَقَالَتو اس نے کہا
    2. اِنْ هٰذَآنہیں یہ
    3. اِلَّامگر (صرف)
    4. سِحْرٌجادو
    5. يُّؤْثَرُاگلوں سے نقل کیا جاتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فَقَالَ إِنْ ہٰذَا إِلَّا سِحْرٌ یُؤْثَرُ ۵ إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ اداؤں اور حرکتوں ہی نے سارا راز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کر دیے کہ وہ کیا زہر اگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے اور یہ محض بشری کلام ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو: قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ اس کی بے مثل فصاحت و بلاغت اور اس کی بے پناہ تاثیر و تسخیر کا انکار جب ان کے لیے ممکن نہیں رہا تو اس کے خلاف انھوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ جادو ہے تاکہ عوام کے دلوں پر اس کے الہامی و خدائی کلام ہونے کا رعب جو بیٹھتا جا رہا تھا اس کا توڑ کریں۔ اس کو جادو کہہ کر وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اس کے اندر جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ آسمان سے اترا ہوا کلام ہے بلکہ یہ محض الفاظ و زبان کی جادوگری ہے اور یہ کوئی ایسی نادر چیز نہیں ہے جو پہلی مرتبہ ظہور میں آئی اور قرآن ہی کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ یہ پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس ملک میں اس سے پہلے بھی ایسے خطیب و شاعر گزر چکے ہیں جن کے کلام میں یہ جادو موجود تھا لیکن ان کو نہ کسی نے خدا کا فرستادہ مانا نہ انھوں نے خود کوئی فرستادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ان کے کلام کو کسی نے کلام الٰہی سمجھا تو اسی کلام کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کو خدائی ہونے کا درجہ دے دیا جائے! ’إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ یعنی یہ محض بشری کلام ہے۔ اس کے ساحرانہ اسلوب بیان کو جتنی اہمیت چاہو دو۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ہے لیکن اس کو آسمان پر چڑھانے کی کوشش نہ کرو۔