تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 39
اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ﴿39﴾
- اِلَّآمگر
- اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِداہنی طرف والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
صرف داہنے والے اس سے مستثنٰی ہوں گے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصحاب الیمین:
اس دن نجات و فلاح صرف اصحاب الیمین کو حاصل ہو گی۔ اصحاب الیمین کی تفصیل اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاری اور جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ بے شک نہ صرف اپنی نیکیوں کا پورا پورا صلہ پائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے بھی ان کو نوازے گا۔ یہ لوگ بہشت کے باغوں میں ہوں گے اور وہاں آپس میں ان مجرموں کے انجام سے متعلق سوال و جواب کر رہے ہوں گے جن سے دنیا میں ان کو سابقہ رہا۔
اس سوال و جواب کی نوعیت سورۂ صافات کی مدرجہ ذیل آیات سے واضح ہوتی ہے اور اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپس میں سوال و جواب کرتے کرتے کس طرح وہ دوزخ میں پڑے ہوئے مجرمین کو بھی مخاطب کرنے اور ان کے دوزخ میں پڑنے کا سبب معلوم کرنے کا موقع نکال لیں گے۔ فرمایا ہے:
فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَتَسَآءَ لُوۡنَ ۵ قَالَ قَائِلٌ مِّنْہُمْ إِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ ۵ یَقُوۡلُ أَئِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۵ ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَدِیْنُوۡنَ ۵ قَالَ ہَلْ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ۵ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ (الصافات ۳۷: ۵۰-۵۵)
’’پس اہل جنت ایک دوسرے کی طرف سوال و جواب کرتے ہوئے متوجہ ہوں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو! بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا جزا اور سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے! کہیں گے، بھلا جھانک کر دیکھو تو سہی! تو وہ جھانک کر دیکھے گا تو اس مجرم کو دوزخ کے بیچ میں دیکھے گا۔‘‘