تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 52
بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ﴿52﴾
- بَلْ يُرِيْدُبلکہ چاہتا ہے
- كُلُّ امْرِۍہر آدمی
- مِّنْهُمْان میں سے
- اَنْ يُّؤْتٰىکہ وہ دئے جائیں
- صُحُفًاصحیفے
- مُّنَشَّرَةًکھلے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیے جائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اعراض کا بہانہ:
یعنی اس یاددہانی سے فرار کے لیے انھوں نے یہ بہانہ بنایا ہے کہ اگر خدا کو کوئی کتاب ہی اتارنی تھی تو انہی (محمد ﷺ) پر یہ کیوں اتاری گئی! ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہمیں بھی کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیے جاتے! آخر اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا کیا دشوار تھا! یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقام میں یوں بیان ہوئی ہے:
وَإِذَا جَآءَ تْہُمْ آیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا أُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ (الانعام ۶: ۱۲۴)
’’اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ ہمیں بھی اسی طرح نہ ملے جس طرح اللہ کے رسولوں کو ملی۔۔۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کن کو سرفراز کرے!‘‘