Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 6

  1. وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ﴿6﴾

    1. وَلَااور نہ
    2. تَمْنُنْاحسان رکھو
    3. تَسْتَكْثِرُزیادہ لینے (کی غرض سے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کرکے منقطع نہ کر۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تالیف کلام کی ایک شکل اور اس کا حل: ’مَنٌّ‘ کے معنی جس طرح احسان کرنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کو کاٹ دینے کے بھی آتے ہیں۔ سورۂ قلم میں فرمایا ہے: ’وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ‘ (۳) (اور بے شک تمہارے لیے ایک کبھی نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے) یعنی جس انذار و تبلیغ کی تمہیں ہدایت کی جا رہی ہے اس کو برابر جاری رکھنا۔ یہ خیال ترک کر کے کہ اب کافی انذار کیا جا چکا، مزید کی ضرورت نہیں رہی، اس عمل کو منقطع نہ کر بیٹھنا۔ تمہارے رب کی طرف سے جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر اس وقت تک قائم و دائم رہو جب تک رب ہی کی طرف سے اس باب میں کوئی اور ہدایت تمہیں نہ ملے۔ ’تَسْتَکْثِرُ‘ یہاں نہی کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو اس پر جزم آنا تھا۔ اگرچہ بعض قاریوں نے اس کو جزم کے ساتھ بھی پڑھا ہے لیکن متواتر قراءت صرف مصحف کی ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کو ضمّہ کے ساتھ ہی پڑھنا اَولیٰ ہے اور اسی کے مطابق اس کی تاویل بھی ہونی چاہیے۔ اس صورت میں یہ لفظ یا تو حال کے محل میں ہو گا یا اس کو مستقل جملہ کی حیثیت دینی پڑے گی۔ میرے نزدیک یہ حال کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ’اِسْتِکْثَارٌ‘ دو معنوں میں معروف ہے۔ ایک کسی چیز کو زیادہ کرنے اور زیادہ چاہنے کے معنی میں، دوسرے کسی چیز کو زیادہ سمجھ لینے یا زیادہ گمان کر لینے کے معنی میں۔ پہلے معنی کے لیے نظیر ’وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ‘ (الاعراف ۷: ۱۸۸) والی آیت میں ہے۔ دوسرے معنی کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے: ’استکثر الشئْ راٰہ کثیرًا او عدّہٗ کثیرا‘ (’استکثر الشئْ‘ کے معنی ہوں گے کسی چیز کو زیادہ خیال کیا یا شمار کیا) صاحب اقرب الموارد نے اسی معنی کو پہلے لیا ہے۔ میرے نزدیک آیت میں یہ اسی معنی میں آیا ہے۔ مطلب، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا، یہ ہو گا کہ انذار کا یہ فرض بغیر کسی وقفہ اور انقطاع کے برابر جاری رکھو، کبھی یہ گمان کر کے چھوڑ نہ بیٹھنا کہ کافی انذار ہوچکا، اب ضرورت نہیں رہی۔ یہ ہدایت اس لیے فرمائی گئی کہ رسول جس فرض انذار پر مامور ہوتا ہے اس کے متعلق سنت الٰہی جیسا کہ جگہ جگہ ہم ذکر کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اگر قوم اس کے انذار کی پروا نہیں کرتی تو ایک خاص مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو لازماً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ مہلت اتمام حجت کے لیے ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کو اس کے لیے کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے کام میں لگا رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس یہ ہدایت نہ آ جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب وہ قوم کو اس کی تقدیر کے حوالہ کر کے اس علاقے سے ہجرت کر جائے۔ اگر رسول بطور خود یہ گمان کر کے قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا تو اندیشہ ہے کہ حالات کا اندازہ کرنے میں اس سے اسی طرح کی غلطی صادر ہو جائے جس طرح کی غلطی حضرت یونس علیہ السلام سے صادر ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد ان کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔ نبی ﷺ کو اس قسم کی عجلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں یہ آگاہی دے دی کہ تم جس فرض پر مامور کیے جا رہے ہو اس میں برابر لگے رہنا، کبھی ازخود یہ سمجھ کر چھوڑ نہ بیٹھنا کہ اب وہ فرض کافی حد تک ادا ہو چکا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ تمہارے کرنے کا نہیں بلکہ ہمارے کرنے کا ہے: ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ‘ (القلم ۶۸: ۴۸) (پس صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور مچھلی والے کے مانند نہ بن جانا) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں آپ کو صبر و ثبات کی تعلیم دی گئی ہے اور یہاں بھی آگے والی آیت میں یہی مضمون آ رہا ہے۔ ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ تم کسی پر کوئی احسان اس خیال سے نہ کرنا کہ اس کا بدلہ اس سے زیادہ احسان کی صورت میں حاصل کرو، اگرچہ آیت کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے لیکن سوال کلام کے موقع و محل کا بھی ہے۔ آخر اس سیاق و سباق میں نبی ﷺ کو یہ نصیحت کرنے کا کیا موقع ہے! ہمارا خیال ہے کہ ان حضرات سے آیت کے دونوں لفظوں کے مفہوم معین کرنے میں مسامحت ہوئی۔ ہم نے ان کی وضاحت کر دی ہے جس سے آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو گیا ہے۔ اب اس پر مزید بحث کی ضرورت باقی نہیں رہی۔