Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 36

  1. اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ﴿36﴾

    1. اَيَحْسَبُکیا وہ گمان کرتا ہے
    2. الْاِنْسَانُانسان
    3. اَنْ يُّتْرَكَکہ وہ چھوڑدیا جائیگا
    4. سُدًىمہمل (یونہی)
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انسان گمان رکھتا ہے کہ وہ بس یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ: اب اسی مضمون پر سورہ کو ختم فرمایا ہے جس سے آغاز ہوا تھا۔ شروع میں فرمایا ہے: ’أَیَحْسَبُ الْإِنۡسَانُ أَلَّنۡ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ ۵ بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی أَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ‘ اس کے بعد کلام انسان کی خود سری، دیدہ و دانستہ حق پوشی اور ہول قیامت کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب آخر میں اسی سوال کو لے کر اس کا جواب دیا کہ جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر تعجب کر رہے ہیں کیا وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ انسان غیر مسؤل چھوڑ دیا جائے گا! اگر غیر مسؤل چھوڑ دیا جانا خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے منافی ہے تو خدا کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں مشکل ہو جائے گا؟ کیا وہ خود اپنی خلقت کے مراحل پر غور نہیں کرتے کہ انسان پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوتا ہے جو رحم میں ٹپکا دی جاتی ہے۔ ’یُمْنٰی‘ مجہول کا صیغہ عدم اعتناء و اہتمام کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ٹپکا دینے والا ایک بوند ٹپکا کر الگ ہو جاتا ہے، پھر اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ وہ بوند کہاں اور کس حال میں ہے۔ بعد کے سارے تصرفات اس پر قدرت کرتی ہے اور تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر وہ اپنی صنعت گری سے اس کو مختلف مراحل سے گزارتی ہے۔ پانی کی بوند خون کی ایک پھٹکی کی شکل اختیار کرتی ہے۔ پھر اس کا خاکہ تیار ہوتا ہے۔ پھر اس کے نوک پلک سنوارے جاتے ہیں۔ بالآخر قدرت اس کو مرد یا عورت بنا کر وجود میں لاتی ہے۔ ان تمام مراحل میں قدرت کا مُوقلم ہی اس پر سارے تصرفات کرتا ہے۔ کسی اور کا ہاتھ اس میں شریک نہیں ہوتا۔ اب غور کرو کہ جس خدا نے اپنی قدرت، حکمت اور صنعت گری کی یہ شانیں تمہارے وجود کے اندر تمہیں مشاہدہ کرائی ہیں کیا وہ تمہارے مر جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کر دینے پر قادر نہیں ہو گا!