Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 15

  1. وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿15﴾

    1. وَيْلٌخرابی ہے
    2. يَّوْمَئِذٍاس دن
    3. لِّلْمُكَذِّبِيْنَجھٹلانے والوں کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس دن کے فیصلہ کے نتیجے کا بیان ہے کہ اس دن ان لوگوں کی تباہی ہے جو اس کے جھٹلانے والے بنے رہے! زبان کا ایک اسلوب: یہ آیت، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، اس سورہ میں بار بار آئے گی اور ہر جگہ اپنے ماسبق سے گہرے ربط کے باوصف، اس کی حیثیت بالکل مستقل ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو اس شرط کا جواب قرار دیا ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔ اگر یہ جواب شرط کے محل میں ہوتی تو اس پر ’ف‘ آنی تھی (الّا آنکہ جواب جملہ فعلیہ یا ظرفیہ ہو) مثلاً فرمایا ہے: ’فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۵ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیْرٌ‘ (المدثر ۷۴: ۸-۹) دوسرے مقام میں ہے: ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا ۵ وَتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا ۵ فَوَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘ (الطور ۵۲: ۹-۱۱) اس قاعدے کی وضاحت ہم نے اس لیے ضروری سمجھی کہ اس جملہ کو جواب شرط مان کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کی تاویل صحیح نہیں ہو گی۔ آگے اس کے مواقع پر اس کی وضاحت ان شاء اللہ ہو جائے گی۔ یہاں جواب شرط محذوف ہے جس طرح ’إِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلَاقِیْہِ‘ (الانشقاق ۸۴: ۱-۶) میں محذوف ہے۔ جواب کے محذوف ہونے ہی کی وجہ سے یہ آیت اتنے گوناگوں پہلوؤں کی جامع بن گئی ہے کہ اس سورہ کے تقریباً ہر پیرے کے بعد یہ آئی ہے اور ہر جگہ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔