تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 27
وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ﴿27﴾
- وَّجَعَلْنَااور ہم نے رکھے
- فِيْهَااس میں
- رَوَاسِيَپہاڑ (جمع)
- شٰمِخٰتٍاونچے اونچے
- وَّاَسْقَيْنٰكُمْاور ہم نے پلایا تمہیں
- مَّآءًپانی
- فُرَاتًامیٹھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور گاڑے اس میں پہاڑ اونچے اور پلایا تم کو پانی خوشگوار ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَیْنَاکُم مَّآءً فُرَاتًا‘۔ یہ اسی ربوبیت کے مضمون سے متعلق ہے جو ’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ کِفَاتًا‘ میں بیان ہوا ہے۔ قرآن کی متعدد آیات میں یہ اشارہ موجود ہے کہ انسان کی رہائش و پرورش کے لیے زمین کو گہوارہ بنانے میں پہاڑوں کے وجود کو بڑا دخل ہے۔ اوپر سورۂ نبا کی جس آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے اس میں بھی فرمایا ہے کہ
’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا‘ (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارا بنایا ہے اور اس گہوارے کو متوازن رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں؟) دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’وَأَلْقٰی فِی الْأَرْضِ رَوَاسِیَ أَن تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (لقمان ۳۱: ۱۰) (اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی جانب کو لڑھک جائے)۔ پہاڑوں کے ایک اور نفع کی طرف بھی اشارہ فرمایا جو ربوبیت کے پہلو سے بڑی اہمیت رکھنے والا ہے۔ وہ یہ کہ ان پہاڑوں کی بلندی ہواؤں اور بادلوں کو کنٹرول کرنے اور پانی کے قدرتی ذخائر جمع کرنے میں بڑی مؤثر ہے۔ انسان شیریں پانی کا محتاج ہے اور یہ نعمت مہیا کرنے کے لیے قدرت نے یہ اونچے پہاڑ بنائے ہیں جو اسی کے بنانے کے ہیں کوئی دوسرا ان کو بنانے پر قادر نہیں ہے۔ اس طرح کلام درجہ بدرجہ ایک یوم الفصل اور روز جزا و سزا کے ثبوت تک خود پہنچ گیا۔ اس بات کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ الفاظ میں بھی اس کو بیان کیا جائے۔