تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 19
اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠﴿19﴾
- اِنْاگر
- تَسْتَفْتِحُوْاتم فیصلہ چاہتے ہو
- فَقَدْتو البتہ
- جَآءَكُمُآگیا تمہارے پاس
- الْفَتْحُفیصلہ
- وَاِنْاور اگر
- تَنْتَهُوْاتم باز آجاؤ
- فَهُوَتو وہ
- خَيْرٌبہتر
- لَّكُمْتمہارے لیے
- وَاِنْاور اگر
- تَعُوْدُوْاپھر کروگے
- نَعُدْہم پھر کریں گے
- وَلَنْاور ہرگز نہ
- تُغْنِيَکام آئے گا
- عَنْكُمْتمہارے
- فِئَتُكُمْتمہارا جتھا
- شَيْئًاکچھ
- وَّلَوْاور خواہ
- كَثُرَتْکثرت ہو
- وَاَنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ
- مَعَساتھ
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر تم فیصل چاہتے ہو تو تمہارے سامنے فیصلہ آگیا اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی خواہ کتنی ہی زیادہ ہو اور بیشک اللہ مومنین کے ساتھ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ۚ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
اس آیت میں براہ راست قریش کو مخاطب کرلیا گیا ہے کہ بولو، اب کیا کہتے ہو ؟ تم یہی تو کہتے تھے کہ اس جنگ میں جو جیتا وہ حق پر سمجھا جائے گا تو فتح تو تمہارے سامنے آگئی۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں نے اپنی کثرت تعداد کے نشہ میں اس موقع پر خوب بڑھ بڑھ کے تقریریں کیں۔ چونکہ ان کو اپنی فتح کا سو فی صدی یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کی میزان ٹھہرا لیا کہ یہ میزان جو فیصلہ کردے گی وہ اس کو بےچون و چرا تسلیم کرلیں گے۔ ابوجہل اس جنگ کے برپا کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ اس کی یہ دعا کتابوں میں مذکور ہے کہ اللہم اقطعنا للرحم فاحنہ الغداۃ (اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ قطع رحم کا مجرم ہوا ہے تو کل اس کو کچل دیجیو) قرآن نے قریش کی انہیں لن ترانیوں کو سامنے رکھ کر کہا کہ اگر اس جنگ کی فتح پر فیصلہ کا انحصار تھا تو اس قاضی کا فیصلہ تو صادر ہوگیا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ غزوہ بدر کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر قرآن نے اس کو یوم الفرقان سے تعبیر فرمایا ہے یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردینے والی جنگ۔ آگے آیت 32 کے تحت یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ قریش علانیہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے تھے کہ اگر محمد (ﷺ) کی دعوت حق ہے تو خدا ہم پر پتھر برسا دے یا کوئی اور عذاب ہم پر آجائے تب ہم مان لیں گے۔
وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ میں نصیحت بھی ہے، فضیحت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ بہتر ہے کہ اس سے سبق لو اگر سبق نہ لیا تو یاد رکھو کہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑو گے اپنی ہی شامت بلاؤ گے۔ وان تعودوا نعد میں کھلی ہوئی دھمکی ہے کہ اگر تم نے اس قسم کی شرارت پھر کی تو یاد رکھو کہ ہم کہیں چلے نہیں جائیں گے۔ تمہارا سر کچلنے کے لیے اسی طرح ہم پھر آموجود ہوں گے۔ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَت۔ اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، تنخواہ کتنی ہی زیادہ ہو، مطلب یہ ہوا کہ واحد چیز جو تم سوچ سکتے ہو، یہی ہے کہ آیندہ مزید قت و شوکت کے ساتھ حملہ کرو، سو یہ چیز بھی تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں۔ بس یہ ہوگا کہ ہماری بھٹی کے لیے کچھ اور ایندھن فراہم کر کے لاؤ گے۔
وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ ٹکڑا ساری آیت کی جان ہے اور اس کے دو لفظوں میں کفار کے لیے دھمکیوں کا اور اہل ایمان کے لیے بشارتوں کا ایک جہان ہے۔ فرمایا کہ اب آئے جس کو آنا ہو اور لڑے جس کو لڑنا ہو اور جمع کرے وہ جتنی جمعیت جمع کرسکتا ہو، اہل ایمان کے ساتھ ہم ہیں ہم ! سبحان اللہ ! !
کیا غم ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے