Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 21

  1. وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿21﴾

    1. وَلَا تَكُوْنُوْااور نہ ہوجاؤ
    2. كَالَّذِيْنَان لوگوں کی طرح جو
    3. قَالُوْاانہوں نے کہا
    4. سَمِعْنَاہم نے سنا
    5. وَهُمْحالانکہ وہ
    6. لَا يَسْمَعُوْنَوہ نہیں سنتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان لوگوں کی روش نہ اختیار کرو جو دعوی تو کرتے کہ ہم نے سنا لیکن سنتے سناتے کچھ نہیں تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک اشارہ یہود کی طرف : وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔ یعنی ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو دعوی تو سمعنا واطعنا کا کرتے لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا۔ بات اگرچہ اشاروں میں کہی گئی ہے لیکن قرآن کا ہر ذوق رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا ہے سورة بقرہ میں کہ یہود کہتے تو سمعنا واطعنا ہیں لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا ہے اور بات کی بھی قرآن نے تصریح کی ہے کہ ان کا یہ رویہ اس کے رسول کی عین موجودگی میں رہا ہے۔ گویا در پردہ ان منافق قسم کے مسلمانوں کو یہ بتا دیا گیا کہ تمہارا یہ طرز عل اتباع رسول نہیں بلکہ اتباع یہود ہے۔ ایمان کا دعوی ہے تو اس مغضوب قو کے نقش قدم پر نہ چلو۔