Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 23

  1. وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿23﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. عَلِمَ اللّٰهُجانتا اللہ
    3. فِيْهِمْان میں
    4. خَيْرًاکوئی بھلائی
    5. لَّاَسْمَعَهُمْتو ضرور سنادیتا ان کو
    6. وَلَوْاور اگر
    7. اَسْمَعَهُمْانہیں سنا دے
    8. لَتَوَلَّوْااور ضرور پھرجائیں
    9. وَّهُمْاور وہ
    10. مُّعْرِضُوْنَمنہ پھیرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر اللہ ان میں کوئی صلاحیت دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور صلاحیت بدون ان کو سنواتا تو وہ اعراض کرتے ہوئے منہ پھیرتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ ایک شبہ کا ازالہ : یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی ایک پیدا ہونے والے شب ہے کا برسر موقع جواب ہے۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سننے سمجھنے ہی پر انسان کی انسانیت کا انحصار ہے اور اس سے محرومی خدا کو اس درجہ ناپسند ہے کہ اس سے محروم ہو کر انسان اس کے نزدیک بد ترین جانور بن جاتا ہے تو وہ اپنی قدرت سے ان کے کان کھول کیوں نہیں دیتا اور ان کی عقل پر پڑے ہوئے پردے ہٹا کیوں نہیں دیتا ؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ اللہ اگر ایسے لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے سمجھنے کی توفیق دیتا۔ یہ صلاحیت ان کے اندر اس نے نہیں پائی اس وجہ سے ان کو توفیق نہیں بخشی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت ہم بار بار کرچکے ہیں کہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں خدا کا قانون یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی صلاحیت بخشی ہے جو لوگ اس کو زندہ رکھتے اور اس سے کام لیتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملتی ہے اور وہ درجہ بدرجہ علم و عمل میں ترقی کرتے جاتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملنا تو الگ رہا، قانونِ الٰہی یہ ہے کہ ان کو جو ہدایت فطرت سے ملی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی سلب ہوجاتی ہے۔ سیدنا مسیح نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ پیرایہ میں سمجھایا ہے کہ جو غلام ایک پیسہ میں چور ثابت ہوا اس کو اس کا مالک ایک لاکھ کی امانت کیسے سونپے گا ؟ وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یعنی اگر بدون اس صلاحیت کے خدا ان کے اندر ہدایت ڈالتا تو ڈالنے کو تو وہ ڈال دیتا لین وہ ان کے اندر جڑ نہ پکڑتی۔ ان کی طیعتیں اس سے ابا کرتیں۔ بالآخر وہ اس کو اگل دیتے۔ غذا کتنی ہی صالح ہو لیکن معدہ فاسد ہوچکا ہو تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا۔ آدمی لقمہ حلق سے اتار تو لیتا ہے لیکن بڑی جلدی قے کردیتا ہے۔ ایک پودے کی صحیح نشوونما کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ذات سے تندرست ہو بلکہ اس کے لیے زمین کی زرخیزی بھی مطلوب ہوتی ہے۔ ایک مالی اگر ایک بنجر زمین میں عدمہ سے عمدہ پودا لگا دے تو لگانے کو تو وہ لگا دے گا اور چند روز وہ پودا اپنی ذاتی صلاحیتوں کے بل پر زندہ بھی رہے گا لیکن جب زمین کے اندر سے اس کے مزاج کے مطابق اس کو مطلوب غذا نہیں ملے گی تو بالآخر وہ سوکھ جائے گا۔ ٹھیک یہی حال نیکی اور ہدایت کے بیج کا بھی ہے۔ یہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق نشوونما صالح فطرت کی زمین کے اندر پاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی فطرت کی زمین شور ہوچکی ہو تو یہ بیج ڈالنے کو تو قدرت اس کے اندر بھی ڈال سکتی ہے لیکن قدرت ہی کا قانون یہ ہے کہ وہ اس کے اندر نشوونما نہ پا سکے۔