تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 25
وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿25﴾
- وَاتَّقُوْااور ڈرو تم
- فِتْنَةًوہ فتنہ
- لَّا تُصِيْبَنَّنہ پہنچے گا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- ظَلَمُوْاانہوں نے ظلم کیا
- مِنْكُمْتم میں سے
- خَآصَّةًخاص طور پر
- وَاعْلَمُوْٓااور جان لو
- اَنَّکہ
- اللّٰهَاللہ
- شَدِيْدُشدید
- الْعِقَابِعذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بچتے رہو اس فتنہ سے جو مخصوص طور پر انہی لوگوں کو نہیں لاحق ہوگا جنہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہوگا اور جان رکھو کہ اللہ سخت پاداش والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ خطاب پورے معاشرے سے عموما ان لوگوں سے خصوصاً ہے جن پر انفرادی اصلاح کا رجحان غالب تھا اور اس رجحان کے سبب سے انہیں اس امر سے کچھ زیادہ تعلق خاطر نہ تھا کہ دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو جھجنھوڑنے کے لیے فرمایا کہ اپنے معاشرے کے اندر ابھرنے والی خرابیوں سے بےتعلق نہ رہو بلکہ اپنے امکان اور اپنی صلاحیت کے حد تک اس کی اصلاح کی کوشش کرو اس لیے کہ معاشرے میں اگر کوئی خرابی جڑ پکڑ لے تو وہ بالتدریج ایک وبائے عا کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور جب وبائے عام کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اس کے برے اثرات و نتائج انہی لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہتے جو بالفعل ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان خرابیوں پر راضی یا خاموش رہنے والے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں اگرچہ وہ عملاً ان میں مبتلا نہ ہوں۔
اس حقیقت کو نبی ﷺ نے ایک کشتی کے مسافروں کی تمثیل سے سمجھایا ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک کشتی میں سفر کریں، کچھ اس کے اوپر کے حصے میں، کچھ نیچے والے حصے میں، نیچے والے یہ محسو کر کے کہ انہیں پانی کے لیے اوپر جانے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے، یہ فیصلہ کریں کہ ہم کیوں نہ کشتی کے نیچے کے حصے میں سوراخ کرلیں اور اوپر والے یہ خیال کر کے کہ وہ اپنے حصے میں سوراخ کر رہے ہیں، ہمیں اس سے کیا سروکار، اس پر خاموش رہیں تو نیچے والوں کے اس فعل کے نتیجہ میں جشتی ڈوبے گی تو اوپر والوں اور نیچے والوں دونوں کو لے کر ڈوبے گی۔
اس بنیاد پر اسلام نے ہر شخص پر دوسروں کو برائی سے روکتے رہنے کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ پیغمبر ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی کوئی برائی دیکھے، اگر ہاتھ سے اس کو روک سکتا ہو تو ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے نہ روک سکتا ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس کی بھی استعطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا سمجھے۔ اس سے نیچے ایمان کا کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے اگر اس سیاق پر نظر دالیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جو حق کو ماننے کا زبان سے تو مدعی ہے لیکن اس کے مطالبات پورے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اس کو قرآن نے اس بات سے ڈرایا ہے کہ ایسے لوگ اگر اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتے تو خدا کا قانون ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو حق کو مانتے ہیں لیکن اس حق سے انہیں اتنا لگاؤ نہیں ہوگا کہ وہ اس کی خاطر دوسروں کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار ہوں، ان لوگوں کو اس بات سے ڈرایا کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل گئی تو اس کے نتائج بد سے یہ لوگ بھی حفوظ نہ رہ سکیں گے۔ محفوط صرف وہ لوگ رہیں گے جو اپنی صلاحیت کی حد تک اپنا حق نصیحت ادا کرتے رہیں گے۔ قطع نظر اس سے کہ کوئی ان کی بات سنتا ہے یا نہیں اور خوش ہوتا ہے یا نا خوش rnۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ پاداش عمل کے قانون کے بےلچک اور بےرو رعایت ہونے کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے قوانین جس طرح جسمانیات و مادیات میں بےلچک ہیں اسی طرح اخلاقیات میں بھی بےلچک ہیں۔ فاسد آب و ہوا میں سانس لینے والا جس طرح آب و ہوا کے فساد سے لازماً متاثر ہوتا ہے اگر وہ ضروری احتیاطیں نہ کری۔ اسی طرح برے ماحول میں زندگی گزارنے والا اس کے برے عواقب کی زد میں آجاتا ہے۔ اگر وہ شرطیں وہ ملحوط نہ رکھے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ اس معاملے میں قانون الٰہی کسی کی رعایت اور کسی کی جانبدار نہیں کرتا۔