تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 28
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ع﴿28﴾
- وَاعْلَمُوْٓااور جان لو
- اَنَّمَآدرحقیقت
- اَمْوَالُكُمْتمہارے مال
- وَاَوْلَادُكُمْاور تمہاری اولاد
- فِتْنَةٌبڑی آزمائش
- وَّاَنَّاور یہ کہ
- اللّٰهَاللہ
- عِنْدَهٗٓپاس
- اَجْرٌاجر
- عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔ یہ اصل بیماری کا پتہ دیا ہے کہ جو لوگ خد اور رسول کی محبت و اطاعت میں کمزور ہیں وہ درحقیقت مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہیں۔ مال و اولاد کی محبت جب اس درجہ غالب آجائے کہ آدمی ان کے پیچھے خود اس کے حقوق و فرائض سے جی چرانے لگے جس کے فضل سے مال و اولاد ملے ہیں تو پھر مال و اولاد فتنہ بن جاتے ہیں۔ خدا اور رسول سے بےوفائی ہو یا دوسروں کے حقوق میں خیانت، اگر اس کے اسباب کا سراغ لگایا جائے تو اس کی تہ میں انہی دو چیزوں کی حد سے بڑھی ہوئی محبت نکلے گی۔ اس اعتبار سے یہ نفاق کا سب سے بڑا دروازہ ہیں اور اسی پہلو سے ان کو فتنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس فتنہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس اجر عظیم کو یاد رکھے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے محفوط کیا ہے جو مال یا اولاد کی محبت میں خدا اور رسول سے بےوفائی نہیں کرتے بلکہ جب ان کے سامنے کوئی ایسی آزمائش آتی ہے جس میں ایک طرف خد اور رسول کی خوشنودی ہو، دوسری طرف مال و اولاد کی محبت تو وہ ہمیشہ خدا اور رسول کی طرف جھکتے ہیں۔ فرمایا کہ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ ایسے باوفاؤں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔