تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 34
وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿34﴾
- وَمَااور کیا
- لَهُمْان کے لیے (ان میں)
- اَلَّاکہ نہ
- يُعَذِّبَهُمُانہیں عذاب دے
- اللّٰهُاللہ
- وَهُمْجبکہ وہ
- يَصُدُّوْنَروکتے ہیں
- عَنِسے
- الْمَسْجِدِ الْحَرَامِمسجد حرام
- وَمَااور نہیں
- كَانُوْٓاوہ ہیں
- اَوْلِيَآءَهٗاس کے متولی
- اِنْنہیں
- اَوْلِيَآؤُهٗٓاس کے متولی
- اِلَّامگر (صرف)
- الْمُتَّقُوْنَمتقی (جمع)
- وَلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَهُمْان میں سے اکثر
- لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کو کیوں نہ عذاب دے گا جب کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں در آنحالیکہ وہ اس کے متولی نہیں، اس کے متولی تو صرف خدا سے ڈرنے والے ہوسکتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ۔ اردو میں اس اسلوب کا مدعا یہ ہوگا کہ آخر ان کو ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ خدا ان کو عذاب نہیں دے گا، یہ قریش کے اس غرور باطل پر ضرب لگائی گئی ہے جو خانہ کعبہ کی تولیت اور اس سے متعلق بعض رسوم و خدمات کی ادائیگی کی بنا پر ان کو تھا۔ قوموں کی یہ عجیب مشترک بد قسمتی رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کو تو ہمیشہ اپنی خواہشات و بدعات کے سانچہ میں ڈھال کر مسخ کیا لیکن انہی مسخ شدہ رسوم کی پرستش کو اتنی اہمیت دی کہ اپنے آپ کو دین کی محسن، خدا کی چہیتی اور محبوب بنا بیٹھیں اور یہ گمان کیا کہ جب ان کے ہاتھوں خدمت دین کے یہ کارنامے انجام پا رہے ہیں تو خدا ان پر کس طرح ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ اسی فتنہ میں یہود مبتلا ہوئے، اسی میں نصاری ہلاک ہوئے، یہی گمراہی قریش کو پیش آئی اور بڑے غم سے کہنا پڑتا ہے کہ اسی فتنہ میں شیطان نے اس امت کو بھی ڈال دیا۔ قریش کو یہ زعم تھا کہ وہ خانہ کعبہ کے متولی، رفادہ اور سقایا کی خدمتیں انجام دینے والے اور حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں۔ اتنے سارے نسبی و حسبی امتیازات کے بعد خدا کے ہاں مقرب و محترم ہونے کے اور کیا چاہیے۔ اس غرور کے سبب سے پیغمبر کی طرف سے عذاب کے ڈراوے ان پر بڑے شاق گزرتے۔ وہ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا پاسبان سمجھے بیٹھے تھے اور ساتھ ہی یہ زعم بھی ان کو تھا کہ خانہ کعبہ بھی ان کا پاسبان ہے۔
وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فرمایا کہ مسجد حرام کی تولیت کا یہ زعم باطل ان کو کس طرح عذاب سے بچا سکتا ہے۔ جب کہ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے ان بندوں کو اس گھر سے روکتے ہیں جو اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، جو اصل دین ابراہیمی کے حامل ہیں اور جو اس گھر کو توحید کی اذان اور خدائے واحد کی عبادت سے از سرِ نو معمور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے جو صرف اس گھر ہی سے نہیں بلکہ اس شہر سے بھی نکالے جا رہے تھے جس میں یہ گھر واقع تھا۔
وَمَا كَانُوْٓا اَوْلِيَاۗءَهٗ ۭاِنْ اَوْلِيَاۗؤُهٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ یہ ان کے دعوائے تولیت کی نفی کردی کہ یہ اس گھر کے متولی کہاں سے ہوئے ؟ اس کے متولی تو صرف اللہ کے متقوی بندے ہی ہوسکتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہ خائن، غدار اور اس گھر کے مقصد تعمیر اور اس کی حرمت کے برباد کرنے والے ہیں اس وجہ سے نہ انہیں اس پر مسلط رہنے کا کوئی حق ہے، نہ ان کے نام پر انہیں خدا سے کسی رعایت کی امید کرنی چاہیے۔ یہ اس گھر کی تولیت کے اصلی حقدار ہمارے وہ متقی بندے ہیں جو ان ظالموں کے ہاتھوں اس سے روک دیے گئے ہیں۔
اس مقام پر وہ بات یاد رکھنی چاہیے جو بقرہ 124 میں گزر چکی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ایک عظیم امت کی امامت کے منصب پر سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کیا یہ منصب میری ذریت کو بھی حاصل رہے گا جواب میں ارشاد ہوا کہ لا ینال عہدی الظالمین۔ میرا یہ عہد تمہاری ذریت کے صالحین کے لیے ہے، ظالمین، اس میں شامل نہیں ہے۔ حجرت ابراہیم کی اس امامت کا مرکز (مثابہ) بیت اللہ قرار پایا اس وجہ سے آپ کی اس دعا اور اللہ تعالیٰ کی تصریح کے بموجب اس گھر کی تعمیر ہی کے وقت یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ اس کی تولیت اور ذریت ابراہیم کی قیادت و امامت کے اصلی وارث صرف وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید پر قائم رہنے والے، اس کے حدود وقیود کی پابندی کرنے والے اور اس کے عہد و میثاق کا احترام کرنے والے ہوں گے نہ کہ وہ جنہوں نے ملت ابراہیم اور بیت اللہ الحرام سب کی آبرو مٹا کر رکھ دی ہے۔ یہاں سیدنا مسیح کے وہ الفاظ بھی یاد رکھیے جو اسی طرح کے موقع پر آنجناب نے بیت المقدس کی تولیت کے مدعی فقیہوں اور پروہتوں کو مخاطب کر کے فرمائے تھے کہ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔
وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ میں اس عام جہالت و بیخبر ی کی طرف اشارہ ہے جس میں اہل عرب اس وقت مبتلا تھے۔ ایک طویل مدت تک جاہلیت کی تاریکی میں زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ اپنی اصل تاریخ بالکل بھلا بیٹھے تھے۔ انہیں قومی تفاخر کے طور پر اتنی بات تو یاد رہی کہ وہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کی اولاد ہیں لیکن اس سے آگے انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ حضرت ابراہیم اس سرزمین پر کیوں تشریف لائے، ان کی دعوت کیا تھی، وہ جس ملت کے داعی ہوئے اس کی امتیازی خصوصیات کیا ہیں۔ حضرت اسماعیل کو انہوں نے یہاں کیوں بسایا، خانہ کعبہ کی تعمیر کس مقصد کے لیے ہوئی اور اس گھر کے تعلق سے ذریت اسماعیل کو اللہ کے دین کی کیا کیا امانتیں اور کیا ذمہ داریاں سپرد ہوئیں۔ چند معاشرتی رسوم اور حج کے کچھ مناسک جو حضرت ابراہیم کے وقت سے چلے آ رہے تھے ان میں بھی اتنی تبدیلیاں ہوگئی تھیں کہ اصلی اور ملاوٹ میں امتیاز مشکل ہوگیا تھا۔ خانہ کعبہ کو انہوں نے اپنا قومی معبد بنا لیا تھا جس کی کلید برداری اور اس کے مختل شعبوں کی سربراہی وراثت کے طور پر مختلف خاندانوں میں منتقل ہوتی رہتی۔ جن پر آبائی جاگیر کی طرح ان کو فخر بھی ہوتا اور اسی حیثیت سے وہ ان پر متصرف بھی ہوتے۔ قرآن نے ان کی اسی جہالت کی طرف یہاں اشارہ کیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کی تولیت کے مدعی تو ہیں لیکن انہیں کچھ خبر نہیں کہ یہ خانہ کعبہ ہے کیا چیز اور اس کی تولیت کے شرائط کیا ہیں ؟