Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 49

  1. اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿49﴾

    1. اِذْجب
    2. يَقُوْلُکہنے لگے
    3. الْمُنٰفِقُوْنَمنافق (جمع)
    4. وَالَّذِيْنَاور وہ جو کہ
    5. فِيْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں میں
    6. مَّرَضٌمرض
    7. غَرَّمغرور کردیا
    8. ھٰٓؤُلَآءِانہیں
    9. دِيْنُهُمْان کا دین
    10. وَمَنْاور جو
    11. يَّتَوَكَّلْبھروسہ کرے
    12. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    13. فَاِنَّتو بیشک
    14. اللّٰهَاللہ
    15. عَزِيْزٌغالب
    16. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہتے تھے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ عزیز و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ مرض جب نفاق کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد حسد ہوتا ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کے بعد اب یہ منافقین اور حاسدین کی حوصلہ شکنیوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کا حوصل پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے۔ ہیں تو مٹھی بھر، مقابلہ کرنے اٹھے ہیں قریش کی دل با دل فوج سے یہ ہاتھی سے گنا کھانے چلے ہیں۔ مذہب کے خبط نے ان کو ہوش و خرد سے عاری کردیا ہے۔ اس قسم کے فقرے اور طعنے بالخصوص جب کہ اپنے اندر ہی کے لوگوں کی زبان سے نکلیں اور حالات بھی بےسرو سامانی اور قلت تعداد کے اعتبار سے وہ ہوں جو بدر کے موقع پر تھے تو ان کے اثرات بہت خطرناک ہوسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے زہر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ rnۭوَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ ان منافقین و حاسدین کے علی الرغم جو لوگ اللہ پر بھروسہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ خدا غالب اور حکیم ہے۔ وہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کا خود ساتھی بنتا ہے، اس کی قوت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، وہ ان کے لیے خود تدبیر فرماتا ہے اور اس کی تدبیر کے مقابل میں کسی کی تدبیر کار گر نہیں ہوتی۔