تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 68
لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿68﴾
- لَوْاگر
- لَانہ
- كِتٰبٌلکھا ہوا
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- سَبَقَپہلے ہی
- لَمَسَّكُمْتمہیں پہنچتا
- فِيْمَآاس میں جو
- اَخَذْتُمْتم نے لیا
- عَذَابٌعذاب
- عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ دھمکتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کے لیے ایک تنبیہ : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی تم نے اتنے ہی پر یہ واویلا برپا کر رکھا ہے۔ حالانکہ یہ تو صرف ایک چرکا ہے جو تمہیں لگا ہے۔ تم نے جو شرارت اس موقع پر کی تھی اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس پر تمہیں ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن اللہ نے چونکہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، جس سے پہلے کسی قوم کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وجہ سے اس نے تمہیں مہلت دے دی۔ مطلب یہ ہے کہ اس شور و غوغا کے بجائے بہتر یہ ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس فیصلہ کن گھڑی کے آنے سے پہلے پہلے اپنی روش کی اصلاح کرلو۔
فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ ، میں ما کے ابہام کی یہاں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے اور اخذ کا لفظ لینے، پکڑنے، اختیار کرنے، کسی ڈھب کو اپنانے، کسی کام کو شروع کرنے سب کے لیے آتا ہے۔ سورة توبہ میں ہے وان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل (اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ منافق کہتے ہیں خوب ہوا ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا) یہاں یہ مطلب ہوگا کہ جو طریقہ تم نے اختیار کیا اس کی بنا پر تم سزوار تو تھے ایک عذاب عظیم کے لیکن اللہ کے قانون کے تحت تمہیں کچھ مہلت مل گئی۔
مفسرین کی ایک الجھن کا ازالہ : ہمارے مفسرین کو ان آیات کی تاویل میں بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ ان کے نزدیک یہ نبی ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے صحابہ ؓ اجمعین پر عتاب ہے کہ وہ زمین میں خوں ریزی کیے بغیر بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر کیوں راضی ہوگئے۔ صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اب اس بات کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم چند باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک یہ کہ فدیہ قبول کرنے کے معاملے میں نبی ﷺ اور صحابہ سے بالفرض غلطی ہوئی بی تو یہ کسی سابق ممانعت کی خلاف ورزی کی نوعیت کی غلطی نہیں تھی بلکہ صرف اجتہاد کی غلطی تھی۔ اجتہاد کی غلطی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ایسی سخت وعید وارد ہو۔ بالخصوص ایک ایسا اجتہاد جس کی تصدیق فوراً ہی خود اللہ تعالیٰ نے کردی ہو۔ دوسری بات یہ کہ یہ اجتہاد کی غلطی بھی نہیں تھی۔ جنگ کے قیدیوں سے متعلق یہ قانون سورة محمد میں پہلے بیان ہوچکا تھا کہ وہ قتل بھی کیے جاسکتے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑے جاسکتے ہیں اور بغیر فدیہ لیے محض احساناً بھی چھوڑے جاسکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جہاں تک خوں ریزی کا تعلق ہے اس کے اعتبار سے بھی بدر میں کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔ قریش کے ستر آدمی، جن میں بڑے بڑے سردار بھی تھے، مارے گئے، کم و بیش اتنے ہی آدمی قید ہوئے۔ باقی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تو آخرلڑائی کس سے جاری رکھی جاتی ؟ چوتھی یہ کہ یہاں عتاب کے جو الفاظ ہیں وہ قرآن کے مخصوص الفاظ ہیں۔ جو شخص قرآن کے اندازِ بیان سے آشنا ہے وہ جانتا ہے کہ ان لفظوں میں قرآن نے کٹر کفار و منافقین کے سوا اور کسی پر عتاب نہیں کیا ہے۔ نقل کرنے میں طوالت ہوگی، جس کو تردد ہو وہ قرآن میں ان تمام مواقع پر ایک نظر ڈال لے جہاں لولا کتاب من اللہ الایہ، کے الفاظ سے کسی پر عتاب ہوا ہے۔