تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 1
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ﴿1﴾
- عَبَسَترش رو ہوا
- وَتَوَلّىٰٓاور منہ موڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت:
’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری کی وجہ العیاذ باللہ یہ تو نہیں ہو سکتی کہ وہ نادار یا نابینا تھے، ناداروں اور نابیناؤں کی قدر نبی ﷺ سے زیادہ کون کر سکتا تھا، البتہ حضورؐ کو اندیشہ ہوا ہو گا کہ ان وحشیوں کو ذرا مانوس کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آ جانے سے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ بدک جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تم نے اس طرح کے مفلسوں اور قلاشوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کیا ہے تو تمہاری مجلس میں بیٹھ کر کون اپنی عزت گنوائے گا۔
قریش کے لیڈروں کی نازک مزاجی: یہ امر واضح رہے کہ قریش کے فراعنہ کو نبی ﷺ پر جو اعتراضات تھے ان میں ایک بڑا اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں۔ اس چیز کو وہ آپ کی نبوت کے خلاف ایک دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے لیے یہ خیال بھی باعث تردد ہوا ہو گا کہ ممکن ہے یہ اپنی بڑائی کے نشہ میں آپ کے ایک محبوب صحابی کی کوئی توہین یا دل آزاری کر بیٹھیں جس سے مزید بدمزگی پیدا ہو۔
اسی واقعہ کو، جو بالکل اتفاق سے پیش آ گیا، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اپنے ان صحابہ کو بنائیں جوا پنی اصلاح و تربیت کے طالب اور شوق و ذوق سے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نازبرداری کریں۔
مغروروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت: پچھلی سورتوں میں یہ بات جگہ جگہ واضح ہو چکی ہے کہ ابتدا میں نبی ﷺ کو قریش کے لیڈروں کو دعوت دینے کا خاص اہتمام تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ آپ کو اول اول، جیسا کہ آیت ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴) سے واضح ہے، انہی کو خطاب کرنے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کو پورے عرب کی سیادت و قیادت حاصل تھی۔ توقع تھی کہ اگر یہ دعوت قبول کر لیں گے تو پورے عرب میں دعوت کی کامیابی کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصے تک حضور نے اپنا سارا زور انھی پر صرف فرمایا اور ان کی طرف سے انتہائی رعونت اور توہین و دل آزاری کے اظہار کے باوجود آپ ان کو دعوت دینے میں لگے رہے لیکن جب ان کی رعونت بہت بڑھ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ ہٹ دھرم نہ صرف یہ کہ کوئی اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے جو وقت ضائع ہو رہا ہے اس سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے لیے پیغمبر ﷺ کی توجہ کے ان ناقدروں سے زیادہ مستحق ہیں تو آپ کو ان کے زیادہ درپے ہونے سے روک دیا گیا اور اس کے لیے عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ نے ایک نہایت مناسب موقع تقریب پیدا کر دی۔