Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 27

  1. فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ﴿27﴾

    1. فَاَنْۢبَتْنَاپھر اگایا ہم نے
    2. فِيْهَا حَبًّااس میں غلہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
، پھر اگائے اس میں غلے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
زمین کی بعض برکتیں: آسمان و زمین یا بالفاظ دیگر بارش اور زمین کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی پروردگاری کی جو برکتیں اہل زمین کے لیے ظہور میں آتی ہیں یہ ان میں بعض ایسی نمایاں چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے قرآن کے اول مخاطب واقف بھی تھے اور جو انسان کی غذائی ضروریات میں بنیادی اہمیت رکھنے والی بھی ہیں۔ سب سے پہلے بعض ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی جو زمین سے لگی ہوئی یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً غلّہ، انگور اور ترکاریاں۔ غلّہ غذائی چیزوں میں بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے۔ دوسری ساری چیزیں اس کے تحت ہیں۔ اس وجہ سے اس کا ذکر سب سے پہلے کیا، غلّہ کے بعد غذائی چیزوں میں دوسری اہمیت رکھنے والی چیز پھل ہے اور پھلوں میں راس الاثمار کی حیثیت انگور کو حاصل ہے اس پہلو سے بطور نمونہ اس کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ترکاریوں کا ذکر فرمایا جو زمین پر پھیلی ہوئی پیدا ہوتی اور غلہ کے ساتھ سالن کے طور پر کام آتی ہیں، بعض کچی حالت میں اور بعض پکا کر۔ لفظ ’قضب‘ کا غالب استعمال اگرچہ انہی سبزیوں اور ترکاریوں کے لیے ہے جو کچی کھائی جاتی اور تیار سالن کے حکم میں داخل ہیں لیکن عام سبزیوں اور ترکاریوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے بعد بعض ان نعمتوں کا ذکر ہے جو فضا میں ابھرے ہوئے درختوں سے حاصل ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نگاہ اٹھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بطور مثال ان میں سے زیتون اور کھجور کا ذکر فرمایا۔ زیتون کو روغن پیدا کرنے والی چیزوں میں جو اہمیت حاصل ہے وہ معلوم ہے۔ قرآن میں اس کے روغن کی غذائی اہمیت کا بھی ذکر ہے اور سورۂ نور میں اس سے جلنے والے روشن چراغوں کی تمثیل بھی بیان ہوئی ہے۔ پھر کھجور کا ذکر ہے۔ کھجور اہل عرب کے لیے بیک وقت گوناگوں فوائد و برکات کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کے لیے غذا سے بھرپور میوہ بھی ہے اور ذخیرہ کیے جانے کے قابل نہایت پرمنفعت غلہ بھی۔ علاوہ ازیں اس سے وہ نہایت لذیذ مشروب بھی حاصل کرتے۔