Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 3

  1. وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ﴿3﴾

    1. وَمَا يُدْرِيْكَاور کیا چیز بتائے تجھ کو
    2. لَعَلَّهٗشاید کہ وہ
    3. يَزَّكّىٰٓوہ سدھر جائے/ تزکیہ پائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ اپنی اصلاح کرتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت: اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے متعلق کوئی پریشانی پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضورؐ کے اندر بھی واقعہ سے متعلق سوال تو فوراً پیدا ہوا ہو گا لیکن خطاب چونکہ براہ راست نہیں تھا اس وجہ سے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئی ہو گی۔ برعکس اس کے اگر خطاب معین ہوتا تو یہ عتاب بہت سخت ہو جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں یہ بات متعین ہو جاتی کہ آپ پر عتاب ہوا اور وجہ عتاب یہ ہے کہ آپ نے ایک نابینا کے آنے پر ترش رویہ اختیار فرمایا درآنحالیکہ واقعہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور آگے آ رہا ہے، یہ نہیں ہے۔ حضرات انبیاؑء کی لغزش کی نوعیت: آیات زیربحث میں خطاب اس لیے واضح فرمایا ہے کہ یہاں وہ بات بھی بیان فرما دی گئی ہے جس پرعتاب ہوا ہے۔ یہ بات کسی فرض میں کوتاہی کی نوعیت کی نہیں بلکہ ادائے فرض میں حد مطلوب سے تجاوز کی نوعیت کی ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی خواہشوں کی پاسداری کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے رب کی رضاطلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جایا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دینے کے لیے طور پر بلایا تو اس کے لیے ایک خاص تاریخ بھی مقرر فرما دی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرط شوق میں مقررہ تاریخ کا انتظار نہ کر سکے بلکہ اس سے پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ ان کی اس عجلت پر گرفت ہوئی تو انھوں نے یہ معذرت پیش کی کہ اے رب، میں تیری رضا طلبی کے شوق میں جلدی چلا آیا ہوں۔ اس طرح کی لغزش ظاہر ہے کہ نہایت اعلیٰ جذبہ سے ہوتی ہے، لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان ہر پہلو سے درست رہے۔ یہاں نبی ﷺ کی جس لغزش پر گرفت فرمائی گئی ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہے۔ سادات قریش کے ایمان لانے سے چونکہ آپؐ پورے عرب کے لیے دعوت کی راہ کھلنے کی توقع رکھتے تھے اس وجہ سے اس کام میں آپ کا انہماک اس قدر بڑھ گیا کہ نہ آپ کو اپنے ذاتی آرام کی کوئی فکر رہی، نہ اس امر کا کوئی خیال رہا کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس انہماک سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا کہ جو غریب مسلمان ایمان لا چکے ہیں ان کی تربیت کی جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لیے بھی آپ مشکل ہی سے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس صورت حال پر قرآن نے جگہ جگہ آپ کو نہایت محبت آمیز انداز میں ٹوکا اور آگاہ فرمایا ہے کہ آپ نے قریش کے معاملے میں اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ نے آپ پرڈالی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اتنے ہلکان نہ ہوں۔ آپ پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی وہ آپ نے پہنچا دی، اب مزید ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی حالات کے اندر عبداللہ بن ام مکتومؓ کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے گویا اس بات میں ایک بالکل فیصلہ کن سورہ نازل کر دی۔ اس تمہید کی روشنی میں آیات زیربحث اور آگے کی آیات پر غور کیجیے۔ ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘۔ یعنی تم پر اس نابینا کا آنا اس اندیشہ سے گراں گزرا کہ شاید اس کے آ جانے سے ان سادات کے پندار کو چوٹ لگے اور وہ بدک جائیں حالانکہ ہو سکتا ہے کہ تم ان کی نازبرداری میں ایک سچے طالب کو نظر انداز کر دو لیکن یہ پھر بھی نہ سنیں تو ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنے ایک سزاوار تربیت ساتھی کی حق تلفی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ رسول کے توجہ کے اصلی مستحق: اس سے معلوم ہوا کہ رسول کا اصل مقصد لوگوں کا تزکیہ ہے۔ جو لوگ اس کے پاس تزکیہ کے طالب بن کر آئیں اس کی توجہ و دلداری کے اصل حق دار وہی ہیں۔ دوسرے لوگ، خواہ بظاہر کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں، ان میں اگر اصلاح و تربیت کی طلب نہیں ہے تو رسول کے مقصد کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سچے طالب کی دو صفتیں: یہاں ایک سچے طالب کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ طالب تزکیہ ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ یہ درحقیقت تربیت گاہ نبوی کے سچے شرکاء کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں بالعموم دو طرح کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جن کے سامنے اپنی اصلاح و تربیت سے متعلق کوئی سوال ہوتا اور وہ نبی ﷺ سے اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آتے، دوسرے وہ جن کے سامنے اگرچہ کوئی خاص سوال تو نہ ہوتا لیکن وہ مجلس میں حاضر ہوتے کہ نبی ﷺ بطور خود یا کسی سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمائیں اس سے بہرہ مند ہوں۔ یہاں ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘ سے پہلی قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ’یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی‘ کے الفاظ سے دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ یہ دونوں ہی راہیں طلب علم کی ہیں اور مقصود ان دونوں کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ جس کو پیغمبر ﷺ کی مجلس میں آنا ہو وہ انہی میں سے کسی ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آئے اور وہی پیغمبرؐ کے التفات کے حق دار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی نازبرداری کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنے انجام کا انتظار کریں۔