Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 4

  1. وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ﴿4﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. الْعِشَارُدس ماہ کی گابھن اونٹنیاں
    3. عُطِّلَتْچھٹی پھریں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور دس ماہہ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
محبوب چیزوں کی کس مپرسی: ’عِشَارٌ‘ جمع ہے ’عُشَرَاءٌ‘ کی۔ یہ لفظ اس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کی گابھن یعنی بچہ جننے کے قریب ہو۔ عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی واضح فرمائی ہے کہ اس دن کی ہلچل لوگوں پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی کہ کسی کی نظروں میں اس کے محبوب سے محبوب مال کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ یہ بات قرآن کے اولین مخاطب، اہل عرب کے خاص مذاق طبیعت کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے۔ ان کے مال میں سب سے زیادہ قدر کی جگہ ان کے اونٹوں کو حاصل تھی۔ خاص طور پر وہ اونٹنیاں ان کو نہایت عزیز و محبوب تھیں جن کے حمل پر دس ماہ گزر چکے ہوں اور بچہ جننے کا وقت اب قریب آ لگا ہو۔ اس طرح کی اونٹنیوں کے مالک ان کی نگہداشت کا قدرتی طور پر خاص اہتمام کرتے۔ ان کی مستقبل کی بہت سی آرزوؤں کا ان پر انحصار ہوتا۔ انہی محبوب اونٹنیوں کو بطور مثال ذکر کر کے دنیا کی محبت میں پھنسے ہوئے غافلوں کو ہول آخرت کی یاد دہانی فرمائی ہے کہ اس کا پہلا ہی مرحہ اتنا شدید ہو گا کہ اس وقت کسی کو اپنی محبوب سے محبوب چیزوں کا بھی کچھ ہوش نہیں رہے گا۔ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی لیکن ان کے مالکوں کو خود اپنی اس طرح پڑی ہو گی کہ وہ کسی اور چیز کی طرف، خواہ وہ کتنی ہی محبوب و مطلوب کیوں نہ ہو، توجہ نہیں کر سکیں گے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام ’تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ‘ (الحج ۲۲: ۲) (جس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی) کے الفاظ سے سمجھائی گئی ہے۔ یس یہ فرق ہے کہ یہاں اس دن کے ہول کی حقیقت محبوب مال کی ناقدری سے سمجھائی گئی ہے اور وہاں شفقت مادری کے مردہ ہو جانے سے درآنحالیکہ یہ جذبہ اتنا قوی ہے کہ اس دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس کو مغلوب نہیں کر سکتی۔