Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 2

  1. الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ﴿2﴾

    1. الَّذِيْنَوہ جو کہ
    2. اِذَاجب
    3. اكْتَالُوْاماپ کرلیں
    4. عَلَي النَّاسِلوگوں پر (سے)
    5. يَسْتَوْفُوْنَپورا بھر کرلیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو دوسروں سے پنوائیں تو پورا پنوائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیربحث نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار زیربحث ہے۔ وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لیے نپواںے اور تولوانے میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو، ہرگز نہ چاہے کہ جو چیز اس کے لیے ناپی یا تولی جائے اس میں رتی برابر بھی کمی ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کے لیے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے۔ یہ کردار اس امر پر شاہد ہے کہ انسان عدل کے تصور اور اس کے واجب ہونے کے شعور سے عاری نہیں ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ جو چیز اسے اپنے لیے پسند نہیں ہے وہ اسے دوسروں کے لیے بھی پسند نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے خلاف محض اپنی خود غرضی سے مغلوب ہو کر کرتا ہے اور یہ ایک کھلی ہوئی ناانصافی بھی ہے اور ایک سخت قسم کی دناء ت بھی۔ عدل سے محبت کے باوجود ارتکاب ظلم کی وجہ: اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر فاطر فطرت نے عدل اور ظلم کے درمیان امتیاز کے لیے ایک کسوٹی بھی رکھی ہے اور عدل کے ساتھ محبت اور ظلم سے نفرت بھی ودیعت فرمائی ہے۔ اس کے باوجود وہ ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عدل اور ظلم میں امتیاز سے وہ قاصر ہے یا ظلم کا ظلم ہونا اس پر واضح نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، محض یہ ہے کہ وہ اپنی کسی خواہش یا کسی جذبہ سے مغلوب ہو کر اپنے نفس کے توازن کو قائم نہیں رکھ پاتا۔ ایک چور جو دوسروں کے گھروں میں نقب لگاتا ہے وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے گھر میں نقب لگائے، ایک قاتل جو دوسروں کو قتل کرتا ہے یہ نہیں پسند کرتا کہ کوئی اس کی یا اس کے کسی عزیز و قریب کی جان کے درپے ہو، کوئی زانی جو دوسروں کے عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے عزت و ناموس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ انہی چوروں، انہی قاتلوں اور انہی زانیوں سے اگر ان کی غیرجانبدارانہ رائے معلوم کرنے کی کوئی شکل ہو تو وہ اس حقیقت کا بھی اعتراف کریں گے کہ چوروں، قاتلوں، زانیوں اور اس قبیل کے دوسرے مجرموں کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرے میں جگہ انہی کے لیے ہونی چاہیے جو جان و مال اور ان کے عزت و ناموس کے اسی طرح حفاظت کرنے والے ہوں جس طرح وہ اپنی جان اور اپنی عزت کی حفاظت چاہنے والے ہیں۔ انسان کی فطرت سے ایک روز جزا پر استدلال: انسان کا یہ طرز عمل اور اس کی فطرت کا یہ پہلو اس بات کی بدیہی شہادت ہے کہ نہ وہ نیک اور بد کو یکساں سمجھتا اور نہ اس بات پر راضی ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے بلکہ اس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ یہی ہے کہ دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ ہونا چاہیے۔ یہ چیز اس بات کو بھی مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن لائے جس میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کرے۔ اگر ایک ایسا دن نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیک اور بد دونوں یکساں ہیں درآنحالیکہ یہ چیز اس فطرت کے منافی ہے جو فاطر نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے۔ یہاں انسان کی اسی فطرت سے ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر دلیل اور ان منکرین قیامت پر حجت قائم فرمائی ہے جو اپنی فطرت کی اس شہادت سے تو انکار نہیں کر سکتے تھے لیکن قرآن کے انذار قیامت کی تکذیب پر تلے ہوئے تھے۔ ایک ضعیف شان نزول: اس آیت کے تحت مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ انصار میں ناپ تول میں کمی کی خرابی موجود تھی اس وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکن اول تو یہ سورہ مکی ہے، مدنی نہیں ہے؛ پھر انصار میں یہ خرابی رہی بھی ہو گی تو اتنی ہی رہی ہو گی جتنی اہل مکہ میں رہی ہو گی بلکہ اہل مکہ کے اندر اس کے پائے جانے کے زیادہ امکان تھے اس لیے کہ وہ بالعموم تجارت پیشہ تھے جبکہ انصار کا اصل پیشہ زراعت تھا۔ پھر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آیت ناپ تول میں کمی کرنے کی مذمت کے سیاق میں نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس حقیقت کے بیان میں ہے کہ انسان عدل و ظلم میں امتیاز سے قاصر نہیں ہے۔ وہ برائی کرتا ہے تو اپنی فطرت کی شہادت کے خلاف محض اپنے نفس کی کسی خواہش کی پاس داری میں کرتا ہے۔ انسان کی یہ فطرت لازم کرتی ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان کامل امتیاز ہو۔ اگر وہ ایک ایسے دن کے آنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جزا و سزا کے مواجہہ سے گریز کرنا چاہتا ہے حالانکہ یہ چیز اس کی اپنی فطرت کا مطالبہ ہے۔