Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 4

  1. اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ﴿4﴾

    1. اَلَاکیا نہیں
    2. يَظُنُّخیال کرتے
    3. اُولٰٓئِكَیہ لوگ
    4. اَنَّهُمْکہ وہ
    5. مَّبْعُوْثُوْنَاٹھائے جانے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اٹھائے جانے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش ہوں۔ اور ان سے پرسش ہو کہ انھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا، پھر اپنے اعمال کے مطابق وہ جزا یا سزا پائیں۔